.

عرب شہر کا نام جو دنیا کی زیادہ تر گاڑیوں میں استعمال ہو رہا ہے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں روایتی ایندھن کے ذریعے چلنے والی اکثر گاڑیوں میں "اسپارک پلگ" استعمال ہوتا ہے۔ عربوں نے اسے خود سے "بوجی" کا نام دے دیا اور اس کی جمع "بواجی" ہے۔ تاہم یہ لفظ اپنی مستعمل صورت میں نہ تو عرب ہے اور نہ فرانسیسی ...

فرانسیسی لوگ پلگ کوBougie کے نام سے پکارتے ہیں۔ تاہم یہ لفظ اصل میں فرانسیسی زبان کا نہیں ہے۔ فرانسیسی زبان میں روشن کرنے والے آلے کو chandeles کے نام سے جانا جاتا ہے۔

درحقیقت فرانسیسی زبان میں "بوجی" کا لفظ الجزائر کے شہر بجّاية سے آیا جو شمعیں تیار کرنے کے حوالے سے مشہور تھا۔ یہاں تک کہ فرانس کے لوگ Chandeles de Bougie یعنی "بجایہ کی شمعیں" بولنے لگے۔

فرانسیسی زبان کی ایک ویب سائٹ Midi libre کے مطابق فرانسیسی زبان میں شمع کا لفظ 14 ویں صدی میں عربی کے لفظ Bougie سے داخل ہوا جو کہ الجزائر کا ایک معروف ساحلی شہر ہے۔ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اسپارک پلگ 15 ویں صدی کے وسط میں سامنے آیا۔

مذکورہ الجزائری شہر سیاحتی نقطہ نظر سے امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ ملک کی ایک اہم بندرگاہ بھی ہے جہاں روایتی حرف و صنعت کے علاوہ جدید صنعتوں نے بھی ترقی کی منازل طے کیں۔ ان میں پیٹرکیمیکلز کے علاوہ میڈیسنز، ڈٹرجنٹس اور پیسٹیسائیڈز شامل ہیں۔

جہاں تک ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں میں اسپارک پلگ کا تعلق ہے تو اس کی ایجاد کا سہرا 1885 میں بیلجیم کے ایک انجینئر Étienne Lenoir کے سر ہے۔