.

’’افغانستان میں کتب خانہ کی کیا ضرورت ہے‘‘: ٹرمپ کا مودی سے ٹھٹھا

روس کبھی سوویت یونین ہوتا تھا لیکن افغانستان نے اسے روس بنا دیا:صدر امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے افغانستان میں ایک کتب خانہ کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ’’ بھلا افغانستان میں اس کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں بھارتی امداد کا مذاق اڑاتے ہوئے بیرونی ممالک کے لیے امریکی امداد میں کمی کا دفاع کیا ہے۔ امریکی صدر نے نریندر مودی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں مسلسل یہ بتا رہے تھے کہ وہ افغانستان میں ایک لائبریری بنا رہے ہیں لیکن یہ منصوبہ بے کار ہے۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا، ’’ہم سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ہم کہیں واہ ، بہت شکریہ! مجھے نہیں معلوم کہ افغانستان میں اسے استعمال کون کر رہا ہے۔‘‘

یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ بھارت کے کس منصوبے کا ذکر کر رہے ہیں تاہم نئی دہلی نے افغانستان کے لیے تین ارب ڈالر کی معاونت کا اعلان کر رکھا ہے۔ افغانستان میں بھارتی معاونت سے شروع کیے جانے والے منصوبوں میں اسکول اور سالانہ بنیادوں پر ایک ہزار افغان طلبہ کے لیے اسکالرشپس شامل ہیں۔

سن دو ہزار پندرہ میں بھارتی امداد سے افغان پارلیمان کی تعمیر نو کے بعد اس کا افتتاح کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا وعدہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’وہ افغان نوجوانوں کو جدید تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت سے آراستہ کرنے کے ساتھ بااختیار بھی بنائیں گے۔‘‘ امریکا کے بعد بھارت کا شمار افغانستان میں سب سے زیادہ سرگرم کردار ادا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ دوسری جانب بھارت کے اس کردار کو اس کا روایتی حریف ملک پاکستان ایک خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

بدھ کے روز افغانستان پر سن 1979-1989 تک سوویت یونین کے قبضے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’روس کبھی سوویت یونین ہوتا تھا لیکن افغانستان نے اسے روس بنا دیا۔ وہ افغانستان میں لڑتے لڑتے دیوالیہ ہو گئے تھے۔‘‘