.

کیا بدنام زمانہ دہشت گرد ابو بنات کا ترک انٹیلی جنس ایجنسی سے تعلق رہا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں دو مسیحی پادریوں کو قتل اور بہت سے افراد کے سرقلم کرنے والے ایک روسی انتہا پسند جنگجو کے بارے میں ایک سویڈش ویب گاہ نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی ٹی سے ایک طویل عرصے تک تعلق رہا تھا۔

نارڈک مانیٹر کے مطابق جب اس کو ترک پولیس نے القاعدہ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے دوران میں گرفتار کر لیا تھا تو اس کو کڑی سزا دی گئی تھی اور نہ لمبی مدت کے لیے قید میں ڈالا گیا تھا بلکہ ایم آئی ٹی نے اس کے خلاف عاید کم زور الزامات کی بنا پر رہا کرا لیا تھا۔

اس انتہا پسند جنگجو کا نام محمد محمد ذاکرووچ عبدالرحمانوف ( المعروف ابو بنات) ہے۔ اس روسی شہر ی نے 2012ء میں ترکی کے راستے شام کا سفر کیا تھا اور وہاں انتہا پسند وں پر مشتمل اپنا ایک دھڑا تشکیل دیا تھا ۔اس نے ’’ جماعت ابو بنات ‘‘ کے نام سے اس دھڑے کی قیادت کی تھی ۔یہ گروپ پہلے داعش میں شامل تھا لیکن پھر اس نے اپنے راستے جُدا کر لیے تھے۔

اس نے گرفتاری کے بعد ترکی کی ایک عدالت میں یہ بیان دیا تھا کہ وہ شام میں ترکی کی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا تھا ۔اس نے رقوم ، اسلحہ اور گاڑیاں وصول کی تھیں۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے 22 اپریل 2013ء کو شام میں دو آرتھو ڈکس مسیحی پادریوں کا خون کردیا تھا۔

سویڈش ویب گاہ کی رپورٹ کے مطابق روسی سخت گیر ذاکرووچ عبدالرحمانوف نے شام میں پہلے تو اپنا گروپ بنایا پھر ایک دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔اس کی متعدد خوف ناک ویڈیو منظر عام پر آئی تھیں جن میں اس کو بے دردی سے لوگوں کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ابو بنات نے اپنے ٹرائل کے دوران میں بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ اس کو شام میں ترک انٹیلی جنس کی معاونت حاصل رہی تھی۔ اس کو رقوم اور گاڑیاں دی گئی تھیں۔

امریکا نے 29 اکتوبر 2015ء کو روسی سخت گیر رحمانوف کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔اسی ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس کا نام پابندیوں کا سامنا کرنے والے مشتبہ دہشت گرد اور انتہا پسند افراد کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

شام میں دو عیسائی پادریوں کے قتل میں ملوّث ہونے کے باوجود ابو بنات کے خلاف ترکی کی عدالت میں اس سنگین جرم پر مقدمہ نہیں چلایا گیا تھا۔اس کو صرف ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائرکر سکتا ہے اور اس کی قید کی مدت میں مزید کمی کا امکان ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ترک پولیس نے 20 جون 2013ء کو ابو بنات اور ایک شامی شہری کو وسطی شہر قونیہ سے معمول کی ایک کارروائی کے دوران میں گرفتار کر لیا تھا لیکن ان دونوں کو گرفتاری کے تھوڑی دیر کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

تاہم جب ابو بنات کی ایک شخص کو قتل کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئی تھی تو ترک پولیس نے ان دونوں افراد کو استنبول میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔اس نے بعد میں دوران تفتیش اعتراف کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص وہی تھا اور وہ دراصل اس میں دو افراد کو ذبح کر رہا تھا۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے ترک انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے والے ابو جعفر نامی ایک شخص سے ریڈیو کمیونیکشن کا ایک آلہ وصول کیا تھا۔

واضح رہے کہ شام میں 2011ء کے اوائل میں پُرامن احتجاجی مظاہروں سے تشدد کا رخ اختیار کرنے والی اسد مخالف تحریک میں بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو شامل ہوئے تھے۔روسی ، یورپی اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو ترکی کے راستے شام میں آتے جاتے رہے تھے اور وہاں انتہا پسند گروہوں میں شامل ہوکر شامی فوج کے خلاف لڑتے رہے تھے۔زیادہ تر غیرملکی اور بالخصوص مغربی ممالک کے شہری سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں شامل ہوئے تھے۔