.

آپ بھی سرد جنگ کے زمانے کے MiG-29 لڑاکا طیارے کے مالک بن سکتے ہیں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ اپنے لیے ایک لڑاکا طیارہ خریدنا چاہتے ہیں اور آپ کے پاس 46.5 لاکھ ڈالر ہیں تو پھر آپ سرد جنگ کے زمانے کے ایک نایاب سمجھے جانے والے لڑاکا طیارے کے مالک بن سکتے ہیں۔

انگریزی ویب سائٹ Popular Mechanics پر شائع ایک مضمون کے مطابق امریکا میں پرانے طیاروں کے ایک بروکر نے MiG-29UB ماڈل کا طیارہ فروخت کے لیے پیش کیا ہے۔ طیارے نے 818 گھنٹے کام کیا ہے اور اس دوران طیارے کی باقاعدگی کے ساتھ دیکھ بھال ہوتی رہی۔ طیارے کو خریدنے کی صورت میں آپ اسے مزید کئی ہزار گھنٹوں تک اڑا سکیں گے۔ البتہ اس ڈیل میں ریڈار اور ہتھیار شامل نہیں ہیں۔

مذکورہ MiG-29 طیارہ سرد جنگ کے آخری سالوں کے دوران پہلی مرتبہ 1981 میں بنایا گیا۔ یہ سرد جنگ کے دوران امریکا کے تیار کردہ لڑاکا طیاروں ایف-15 اور ایف-16 کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا۔ اس طیارے کا نیا ورژن MiG-29K کے نام سے ابھی تک تیار کیا جا رہا ہے۔

سرد جنگ کے اختتام اور سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعدMiG ساخت کے طیاروں کو سابقہ سوویت جمہوریاؤں میں تقسیم کر دیا گیا جن میں یوکرائن بھی شامل ہے۔ امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع Raptor Aviation کمپنی نے 1986 میں تیار ہونے والا ایک طیارہ یوکرائن سے حاصل کر لیا۔ اب اس طیارے کو 46.5 لاکھ ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہMiG ماڈل کے طیاروں کے کاک پٹ میں دو نشستیں ہوتی ہیں۔ ان طیاروں میں دو Klimov RD-33 انجن ہوتے ہیں۔ یہ طیارہ 60 ہزار فٹ کی بلندی پر آواز کی رفتار سے تقریبا 2.4 گُنا تیز رفتار سے سفر کر سکتے ہیں۔ البتہMiG-29 طیارہ صرف 1100 ميل تک سفر کر سکتا ہے۔ اس کے سبب اندرون ملک بعض صورتوں میں اضافی ایندھن کے لیے اسے کسی اسٹیشن پر رکنا پڑتا ہے۔