.

سعودی عرب میں‌مقیم پاکستانی ملازمت چھوڑ کر'عقال' ساز بن گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ملامت کی غرض سے آئے ذاکر نامی پاکستانی نوجوان نے اپنی ملازمت چھوڑ کر عرب دنیا کے قومی لباس کا حصہ سمجھے جانے والے 'عقال' کی تیاری میں کمال مہارت حاصل کرکے عربوں‌ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'عقال' ایک دائرہ نما دو شالہ ہے جو عرب دنیا میں رائج ہے۔ سعودی عرب میں سفید یا سرخ رومال پر اسے باندھا جاتا ہے۔ نہ صرف سعودی عرب کے لوگ بلکہ خلیجی ریاستوں میں 'عقال' عرب لباس کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ذاکر نے کہا کہ پانچ سال قبل تک وہ کسی اور کے ساتھ ملازمت کرتا تھا اب اس نے 'عقال' سازی میں مہارت حاصل کرنے کے بعد خود سے اس کی تیاری شروع کردی ہے۔

اس نے بتایا کہ چند سال قبل میں ایک جرمن کمپنی کے ساتھ ملازم تھا۔ اس دوران میں دست کاری کے لیے سوچتا رہتا۔ ملازمت چند روزہ ہوتی ہے جب کہ ہنر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ میری اس سوچ نے مجھے دوسروں سے ممتاز کر دیا۔ میں توانائی کے شعبے میں ملازمت ترک کرکے 'عقال' سازی کے میدان میں اتر آیا۔

اس نے کہا کہ میرے خیال میں ’عقال‘ سازی سعودی عرب میں بہت اچھا کام ہے اور یہاں کے باشندے پاک لوگ ہیں۔ میرا خاندان بھی دست کاری کے پیشے سے وابستہ ہے۔ جب میں سعودی عرب سے اپنے وطن واپس آیا تو میں اپنے ساتھ مختلف اقسام کے دھاگے بھی ساتھ لایا۔ گھر والوں نے انہیں بہت پسند کیا اور مجھے ترغیب دی کہ میں بھی دست کاری کا تجربہ کروں اور اس میدان میں اپنا ہنر آزمائوں۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میں نے اپنے مشغلے کو ملازمت پر ترجیح دی۔ ملازمت کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگری ہونے کے باوجود میں نے کام چھوڑ دیا اور ’’عقال‘‘ بنانے کا کام شروع کردیا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ذاکر نے کہا کہ مقامی سطح پر کئی طرح کے ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں سعودی عرب کے مردوں میں جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے وہ ’’عقال‘‘ ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ذاکر نے کہا کہ سعودی عرب میں ’عقال‘ کئی طریقوں سے بنایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اون سے اور کچھ دھاگے سے تیار کرتے ہیں۔ معیار کے اعتبار سے بھی مارکیٹ میں مختلف عقال موجود ہیں۔ میں بہت تیزی کے ساتھ عقال بنانے کا طریقہ سیکھ لیا اور اب میں پیشہ ور عقال ساز ہوں اور 20 منٹ میں ایک عقال تیار کرلیتا ہوں۔ ایک عقال 25 سے 50 ریال کے درمیان فروخت ہوتا ہے۔