.

پاپائے روم یو اے ای سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ جانئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاپائے روم پوپ فرانسیس 3 سے 5 فروری کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خلیج عرب میں سرکردہ عیسائی رہ نما بشپ پال ھنڈر نے پاپائے روم کے دورے کے بارے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاپائے روم کا دورہ امارات 'تاریخ ساز' واقعہ ثابت ہوگا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں اس دورے پر مرکوز ہیں۔ ان کے دورے کی وجہ سے ابوظبی پوری دُنیا کے لیے اس وقت ایک دریچے کا درجہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوپ فرانسیس نے اپنے دورے سے قبل ہی رواں سال کو'رواداری کا سال' قرار دیا ہے۔

بشپ پال ھنڈر نے کہا کہ پاپائے روم کا دورہ امارات اسلامی اور مسیحی دنیا کےدرمیان امن کا ایک نیا 'پُل' قائم کرنے کے ساتھ امارات کی کے ساتھ بھائی چارے، انسانی بقائے باہمی، خطے اور پوری دنیا میں امن کے قیام کی طرف اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔

پوپ فرانسیس وہ پہلے کیتھولک پادری ہیں جو جزیرہ عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے دورے کا آغاز امارات سے ہو گا اور وہ تین سے پانچ فروری تک خطے میں قیام کریں گے۔ ان کے اس دورے کا خطے کے لاکھوں عیسائی بے تابی ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔

امارات اور ویٹی کن میں سفارتی تعلقات

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پوپ فرانسیس کےدورہ امارات کے نتیجے میں ویٹی کن اور ابوظبی کے درمیان سفارتی تعلقات اور روابط مزید مستحکم ہوں‌ گے۔ دونوں ملکوں‌ کے درمیان 2007ء میں اس وقت سفارتی تعلقات کے باب میں ایک نیا موڑ آیا جب پاپائے روم نے متحدہ امارات میں مذہبی آزادی کی تحسین کی تھی۔

سنہ 2007ء کے بعد اب تک اگرچہ زیادہ عرصہ نہیں گذرا مگر اس عرصے کے دوران دونوں کے درمیان لا محدود تزویراتی قوت میں اضافہ ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے پال ہینڈر کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے روا داری، محبت، تعاون، مودت اور بقائے باہمی کی تابندہ روایات قائم کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امارات اس وقت امن، مفاہمت ہم آہنگی اور بقائے باہمی کا گہوارہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوپ فرانسیس ایک ایسے وقت میں امارات کے دورے پر آ رہے ہیں جب کہ ابوظبی کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے 2016ء کو ویٹی کن کا دورہ کیا تھا۔ بعد ازاں امارات کے وزیر خارجہ نے بھی ویٹی کن کا دورہ کیا۔ پوپ فرانسیس کے دورے کا مقصد آسمانی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مشترکہ انسانی قدروں کو اجاگر کرنا اور امن کی خاطر بقائے باہمی کے لیے انہیں باہم متحد کرنا ہے۔

بشپ پال ھنڈر نے کہا کی پوپ فرانسیس کا دورہ امارات مذہبی انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کا رد ہے۔ ہم سرحدوں کو عبور کرنے سے خائف نہیں۔ ہم اپنے گہرے احترام کا اظہار کریں‌ گے۔ دیگر مذاہب کو بھی ہمارے ساتھ شامل ہونا ہو گا۔

مشرقی مسیحی

عیسائی پادری پال ھنڈر نے مشرقی عیسائیوں پر ہونے والے مظالم پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ شام اور عراق میں منظم انداز میں عیسائی برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ توقع ہے کہ پوپ فرانسیس کے دورے سے خطے میں عیسائی وجود کو تقویت ملے گی اور ان کے حوالے سے پھیلی غلط فہمیاں دور کی جاسکیں گی۔ ہم امارات کی حدود سے ماوراء ہو کر پوری دنیا سے کہتے ہیں کہ ہمیں دیکھیں کہ ہم کس طرح اہم ایک مساوی معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

الشیخ زاید مسجد کا دورہ

اپنے تین روزہ دورہ امارات کے دوران پاپائے روم الشیخ زید مسجد کا بھی دورہ کریں گے۔ اس دورے میں وہ اسلامی حکماء کونسل کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے۔ عیسائی پادری نے پاپائے روم کے دورے کو دوسرے ادیان کے احترام کا اظہار قرار دیا اور کہا کہ ہم دنیا بھر میں مساجد میں داخل ہو کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم سب اللہ کے لیے نماز ادا کرتے ہیں۔ ہم سب مل کر بہتر انسانیت کی تعمیر کرسکتے ہیں۔