.

متاع لوح وقلم چھن گئی تو کیا غم ہے؟

ہاتھ سے محروم سعودی شہری نے معذوری کو اپنے جواں جذے سے شکست دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں تیل کی سب سے بڑی سرکاری کمپنی'ارامکو' نے اپنے ماہانہ جریدے"قافلہ الزیت" میں تیل اور کشتیوں کی شعبے میں کام کرنے والے ایک معذور کشتی ساز کا احوال بیان کیا ہے جو سمندر میں ایک حادثے میں اپنے ایک ہاتھ سے محروم ہو گیا مگر اس کے باوجود اس نے کشتی سازی کے میدان میں ملک گیر شہرت حاصل کرکے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔

’’قافلہ الزیت‘‘ کے مطابق ابو ناصر علی شطی نے سنہ 1986ء میں سمندر میں تیل کے ایک کنوئیں میں دائیں ہاتھ سے محروم ہونے کے بعد 'ارامکو' کے ایک اسپتال میں علاج شروع کرایا۔ اس دوران اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے کام کرنے اور لکھنے کی مشق شروع کر دی۔ علی شطی کے ساتھ یہ حادثہ راس تنورہ کے مقام پر سمندر کے اندر پیش آیا۔ حادثے کے بعد اسے مصنوعی ہاتھ لگایا گیا۔ اسی عرصے میں اس نے لکڑی کی کشتیاں تیار کرنے کی تربیت حاصل کرنا شروع کردی۔

اس وقت علی شطی کی عمر 30 سال تھی وہ امریکیوں کی زیر نگرانی علاج اور تربیت کے بجائے کشتی سازی کے اپنے شوق کو آگے بڑھانے کے لیے بہت زیادہ فکر مند تھا۔ بائیں ہاتھ سے اس کے لیے لکھنے سمیت کوئی بھی کام کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ وہ اس سے قبل اس کا عادی نہیں تھا۔

وہ مشرقی سعودی عرب کے علاقے جزیرہ تاروت میں 1959ء‌ کو پیدا ہوا اور سنہ 1977ء کو اس نے 'ارامکو' میں ملازمت شروع کی۔ اس نے ایک آئل فیلڈ میں تیل صاف کرنے اور اس کے متعلق دیگر امور کی تربیت حاصل کی اور اس فن میں بھی جلد ہی وہ طاق ہوگیا۔

سنہ 1986ء میں ابو ناصر کو مصنوعی بازو لگایا گیا۔ اس سے ایک تو اس کی جسمانی عضو کی کمی کو کسی حد تک دور کر دیا گیا اور ساتھ اس ہاتھ کی مدد سے وہ ہلکے پھلکے کام اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے بھی قابل ہو گیا۔ وہ گھر میں ہلکی پھلکی چیزیں‌ بھی اس بازو کے اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کردیتا۔"Mechanical hook hand" کے نام سے یہ مصنوعی ہاتھ ابو ناصر کے لیے آہستہ آہستہ معاون بنتا گیا اور وہ اس کے استعمال پر بھی قادر ہو گیا۔

مایوسی اورامید

ایک سال پیشتر اس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی ہاتھوں سے کام شروع کیا۔ ایک ہاتھ صرف جسمانی خوبصورتی کے لیے تیار کیا گیا تھا جب کہ دوسرا متحرک بازو تھا۔ اگست 2018ء کو ریاض میں قائم شہزادہ سلطان مرکز برائے انسانی خدمات میں ماہرین کے ساتھ ملاقات طے ہوئی۔ وہاں علی شطی کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی مکمل پیمائش کی گئی تاکہ پرانے ہاتھوں کی جگہ نئے اور جدید ٹکنالوجی سے تیار کردہ ہاتھ کو جسم کے ساتھ جوڑا جا سکے، یہ نیا ہاتھ معیار میں بہترین اوروزن میں پہلے کی نسبت ہلکا ہے۔

ابو ناصر نے افسوس کے ساتھ اس بات کا تذکرہ کیا کہ وہ طویل عرصے تک مصنوعی ہاتھ کے ساتھ کام کرتا رہا مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مایوسی مسلسل بڑھتی جاتی تھی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الشطی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے جدید ٹکنالوجی سے تیار کردہ بازو کے حصول کا منتظر رہا اور "الظہران" میں "ارامکو" کے اسپتال میں علاج جاری رکھا۔ مصنوعی ہاتھ کے حصول میں تاخیر بیرون ملک سے ہاتھ کا نہ پہنچنا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ مُجھے نہیں معلوم کہ میں کب تک دوبارہ "ارامکو" کمپنی میں واپس جا کر فعال انداز میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالوں گا۔

کشتی سازی کی طرف واپسی

سنہ 2015ء کو علی شطی نے اپنے ایک ہمسائے گھر میں موجود فالتو لکڑیوں سے ایک بار پھر کشتی سازی کے اپنے شوق کو جلا بخشنے کی کوشش کی مگر اس کا بایاں ہاتھ یہ سب کچھ سہولت کے ساتھ کرنے کا عادی نہیں تھا۔

العربیہ ڈات نیٹ سے بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ چھوٹی عمر میں میں دیکھتا تھا کہ ماہی گیر اپنے کشتیاں پانی سے نکال کر اپنے گھروں میں لے آتے ہیں۔ ان میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتے ہیں۔ اکھڑنے والی کیلوں کی جگہ نئی کیلیں لگاتے اور ان میں موجود خرابی دور کرتے ہیں۔ ان میں ایک کشتی بان کا نام چلاف تھا اور میں ان لوگوں کو کشتیوں کی مرمت کرتے قریب سے دیکھتا۔ میں ان کے کام سے بہت متاثر ہوا اور کشتی سازی کا شوق میرے خون میں اتر گیا۔ میرا شوق تھا کہ میرے پاس بھی ایک کشتی ہو اور میں تنہا اسے سمندر چلائوں۔

چند مشہور کشتیوں کے نام

علی الشطی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ خلیج کی بہترین کشتیاں تیار کرنے کا خواب دیکھتا رہا۔ اس نے کئی شکلوں اور سائز کی کشتیاں تیار کیں۔ ان میں‌ بعض ماہی گیری اور بعض سمندری سفر کے لیے استعمال کی جاتیں اور ان کے اپنے اپنے نام تھے۔ سفر کے لیے سب سے بڑی کشتی کو 'البوم' کا نام دیا گیا۔ سمندر میں موتیوں کی تلاش کے لیے بنائی گئی کشتی کو 'الجالبوت' کا نام دیا گیا۔ پٹرول کی ایجاد کے بعد ملازمین کی نقل وحمل کے لیے تیارکی گئی کشتی کو 'السمبوک' کا نام دیا گیا جو بندرگاہوں پر ملازمین کے کام آتی۔ آج کل اسے ماہی گیری کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لکڑی کے بجائے اب اس میں زیادہ تر فائبر گلاس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہی گیری کے لیے چھوٹی کشتیوں کو الضحلہ، الھوری، الشوعی، البلم،چھوٹی الجالبوت جسے اب الزوارق میں بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

فن کار بھائیوں حسن اور سعید الجیرانی نے علی الشطی کی کشتی سازی کے فن پر ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے۔'ابو ناصر' نامی دستاویزی فلم نے کانسی کا تمغہ بھی حاصل کیا ہے۔ یہ فلم اپریل 2018ء کو الاحساء میں ہونے والی مختصر دستاویزی فلموں کے ایک میلے میں پیش کی گئی تھی۔ اس فلم کو 25 بہترین دستاویزی فلموں میں شامل کیا گیا تھا۔