.

امام مسجد کا فلسطینی نژاد بیٹا وسطیٰ امریکا کے ملک کا صدر بن گیا!

نجیب نے ال سلواڈور کی صدارت سے پہلے اسرائیل کا دورہ کیا، دیوار گریہ پر ماتھا ٹیک چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ال سلواڈور وسطی امریکا میں گوئٹے مالا اور ہنڈوروس کے بیچ واقع ہے۔ گذشتہ روز یہاں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ پیر کی صبح پہلے مرحلے کے نتائج فلسطینی نژاد سیاسی اور کاروباری شخصیت نجیب ابو کیلہ کی واضح جیت کا پیغام لے کر آئے۔

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت اللحم سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ نجیت نے ال سلواڈور کے دارالحکومت سان سلواڈور میں آنکھ کھولی۔ ان کے فلسطینی والد دو سال قبل اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جب کہ ال سلواڈور سے تعلق رکھنے والی والدہOlga Ortez ابھی حیات ہیں۔

ال سلواڈور کے نئے صدر کے والد کا نام ڈاکٹر ارماندو (احمد) ابو كيلہ قطان ہے۔ وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہونے کے علاوہ "امام ال سلواڈور" کے خطاب سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی لگائی ہوئی ٹیکسٹائل مل کے نزدیک ایک مسجد بنوائی اور وہ اس کے امام تھے۔

نجیب ابو کیلہ نے چار برس پہلے ال سلواڈور کی خاتون Gabriela Rodriguez سے شادی کی جو گزشتہ برس اسرائیل کے دورے میں ان کے ہمراہ تھیں۔ ابو کیلہ 2015 سے 2018 تک دارالحکومت کے میئر رہے۔ انہوں نے بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف اپنی بھرپور مہم کے سبب شہرت پائی۔ اس طرح ان کی جیت سے کئی دہائیوں تک جاری ملک کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان اقتدار کے تبادلے کا سلسلہ اختتام پذیر ہو گیا۔

انتخابات سے قبل ہی یہ بات کہی جا رہی تھی کہ ریاستی اداروں کے حوالے سے عدم اطمینان نے 65 لاکھ آبادی والے ملک کے ووٹروں کو روایتی جماعتوں کا متبادل لانے کے لیے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ال سلواڈور میں 1.5 لاکھ کے قریب عرب نژاد بستے ہیں۔ ان میں نصف کے قریب فلسطینی ہیں جب کہ بقیہ لبنانی اور شامی ہیں۔

ابو کیلہ کے سب سے بڑے حریفCarlos Calleja صدارتی انتخاب کی دوڑ میں دوسرے نمبر پر رہے۔ ابو کیلہ اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 53.7 فیصد ووٹ حاصل کر کے ملک کے اعلی ترین منصب تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ اگر اول نمبر پر آنے والا امیدوار 50 فیصد سے کم ووٹ حاصل کرتا تو پھر مارچ میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد کیا جاتا۔

ابو کیلہ براعظم امریکا میں کسی ملک کے صدارتی انتخابات میں جیتنے والے دوسرے مسلمان ہیں۔ اس سے قبل لاطینی امریکا کے ملک ارجنٹائن میں بھی شامی نژاد کارلوس منعم صدر کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں۔ تاہم ابو کیلہ کی جیت سے فلسطینیوں کو خوشی نہیں ہو گی کیوں کہ فلسطینی عوام فروری 2018 میں ابو کیلہ کے اسرائیل کا دورہ کرنے پر چراغ پا ہیں۔ اس دورے میں انہوں نے نہ صرف اسرائیلی حکومت اور سرکاری عہدے داران سے ملاقات کی بلکہ وہ دیوار گریہ کے نزدیک یہودیوں کی مذہبی تقریبات میں بھی شریک ہوئے۔ ابو کیلہ کے اس اقدام پر فلسطینی حلقوں کی جانب سے ان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔