سلویسٹر دوم عربی اعداد کو یورپ پہنچانے والی پہلی شخصیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عربی زبان کے اعداد کو سیکھنے اور انہیں یورپ پہنچانے کے پیچھے ایک نادر نوعیت کی کہانی موجود ہے۔

اس کہانی کا آغاز ایک نامعلوم شناخت کے حامل شیر خوار بچے سے ہوتا ہے جس کو 945ء میں فرانس میں ایک مذہبی خانقاہ کے دروازے پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ وہاں موجود راہبوں نے بچے کو فورا اٹھا لیا اور اس کا نام "گربرٹ" رکھا۔ آگے چل کر یہ بچہ سلویسٹر دوم بنا اور اسی نے یورپ میں سب سے پہلے عربی اعداد سیکھے۔

گربرٹ نے فرانس میں اورے لیک کی خانقاہ میں بیس برس سے زیادہ گزارے۔ اندلس میں عربوں کے ہاتھوں شکست کا مزہ چکھنے والے کاؤنٹ آف بارسلونا نے فرانس میں برگرٹ سے ملاقات کی تو اس کی ذہانت سے بے حد متاثر ہوا۔ کاؤنٹ نے راہبوں سے اجازت لی اور گربرٹ کو اپنے ساتھ ہسپانیہ لے گیا۔ وہاں وہ عربوں سے ملاقات کے لیے پہنچے تو گربرٹ قرطبہ میں عربوں کے محلوں کے سحر انگیز جمال سے مبہوت رہ گیا۔

وہ مسلم حکمرانوں اور علم و ادب سے ان کے شغف سے بھی بہت زیادہ متاثر ہوا۔ گربرٹ نے عربوں سے ریاضی ، فلکیات اور دیگر علوم سیکھے۔ ان میں سب سے اہم چیز جو گربرٹ نے سیکھی وہ عربی زبان کے اعداد اور نمبروں کا نظام تھا۔ اسی بنیاد پر گربرٹ کو مغرب کا پہلا شخص قرار دیا جاتا ہے جس نے ان اعداد کو سیکھا اور انہیں استعمال کیا۔

فرانس کی ایک خانقاہ کے باہر رات کے اندھیرے میں ملنے والا شیرخوار بچہ بعد ازاں ایک مشہور ترین ریاضی داں بنا۔ سن 971ء میں روم کے بادشاہ نے اسے اپنے محل میں استاد اور اپنا مشیر مقرر کر لیا اور کچھ عرصے بعد ایک شاہی فرمان کے ذریعے گربرٹ کو پادریوں کا سربراہ مقرر کر دیا۔

روم کے بادشاہ سے ملاقات کے 28 برس بعد گربرٹ 999ء میں 146 واں پوپ بن گیا۔ اس نے اپنے لیے سلویسٹر دوم کا خطاب چنا۔ وہ 1003ء میں اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہا۔

اس زمانے میں گربرٹ کا پوپ کے منصب پر پہنچنا ایک بڑا واقعہ تھا۔ بالخصوص جب کہ اس پر مسلمانوں کے متوازی نظریات کے حامل ہونے کا "الزام" تھا۔

جرمن خاتون مستشرق زیگریڈ ہونکہ کہتی ہیں کہ گربرٹ نے سب سے پہلے عربی اعداد مغرب میں پہنچانے کی نیک نامی اور جو اعزاز حاصل کیا تھا، وہ اس وقت کے راہبوں کی جانب سے ایک من گھڑت کتاب گربرٹ سے منسوب کر دینے کے سبب دھندلا گیا۔

زیگریڈ کے مطابق یہ کتاب صرف اس لیے گھڑی گئی تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ مغرب نے ان اعداد کو عربوں سے پہلے حاصل کر لیا تھا۔ اس طرح یقینی طور پر یہ بات دفن ہو جائے گی کہ مغرب میں سب سے پہلے عربی اعداد سیکھنے والا شخص ماہر ریاضی داں اور پوپ گربرٹ تھا۔

عبدالرحمن بدوی نے اپنی کتاب موسوعة المستشرقين (مستشرقین کا انسائیکلوپیڈیا) میں کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا گربرٹ نے مغربی دنیا میں عربوں کے علوم پھیلانے کی کوشش کی۔ البتہ بدوی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گربرٹ نے سب سے پہلے فرانس میں عربی اعداد روشناس کرائے۔

گربرٹ کی پراسرار شخصیت نے عبدالرحمن بدوی کو اس حد تک چکرا دیا کہ وہ اپنے انسائیکلوپیڈیا میں اس مشہور ریاضی دان کے بارے میں شدید متضاد رائے کے حامل نظر آتے ہیں۔ پہلے بدوی نے گربرٹ کا تعارف کراتے ہوئے تحریر کیا کہ وہ "واحد پوپ ہے جس نے عربی زبان سیکھی اور ہسپانیہ میں موجود عربوں کے پاس علوم میں مہارت حاصل کی"۔ اس کے بعد گربرٹ کے بارے میں اپنے مضمون کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ "ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ آیا اس نے عربی زبان سیکھی تھی؟"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں