.

شیخ الازھر احمد الطیب کا تنخواہ نہ لینے کا راز کیا ہے؟

جامعہ الازھر کے سربراہ کے بارے میں چشم کشا معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چھ جنوری سنہ 1948ء کو مصر کی الاقصر گورنری کے نواحی قصبے القرنہ میں جامعہ الازھر کے ایک عالم دین محمد احمد الطیب کے کے ہاں پیدا ہونے والے بچے احمد کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ بڑا ہو کر دُنیا کی سب سے بڑی دینی درس گاہ کی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔

البتہ الشیخ محمد احمد الطیب کے والد یہ ضرور چاہتے تھے کہ ان کے دونوں بیٹے احمد اور محمد دینی تعلیم حاصل کریں اور جامعہ الازھر میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے والد نے بچوں کی تعلیم وتربیت اور زھد وورع کی خوبیاں پیدا کرنے میں کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

اپنے والد کے فیضان نظر سے فیضاب ہونے والے احمد الطیب نے جامعہ الازھر میں اصول الدین کا شعبہ اختیار کیا اور تیزی کےساتھ کامیابی کے مراحل طے کرتے چلے گئے۔ قاہرہ میں اصول دین کی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے اس شعبے میں 'ایم اے' کیا اور اس کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تحصیل علم کا شوق پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس چلے گئے جہاں‌ سوربون میں اپنی تعلیم آگے بڑھائی۔

ڈاکٹر احمد الطیب نے عملی زندگی کا آغاز مصر کے محکمہ اوقاف میں ملازمت سے کیا اور وہاں بھی تیزی کے ساتھ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے دیار مصر کے مفتی اعظم بن گئے۔ مفتی اعظم کی خدمات انجام دینے اور الشیخ محمد طنطاوی کی وفات کے بعد حکومت وقت نے 19 مارچ 2010ء کو انہیں جامعہ الازھر کا سربراہ مقرر کیا۔

اس وقت شیخ الازھر متحدہ عرب امارات کےدورے پر ہیں جہاں انہوں‌ نے ابو ظبی کے دورے پر آئے پوپ فرانسیس سے انسانی بھائی چارے کی ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اگرچہ ان کا آبائی گائوں القرنہ ہے مگر ان کا زیادہ وقت قاہرہ میں ایک فلیٹ میں گذرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے اہل خانہ اور قبیلے سے الگ تھلگ نہیں۔ دو یا تین ہفتے بعد وہ ضرور گائوں جاتے ہیں اور وہاں پر لوگوں کے باہمی تنازعات کے حل میں بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔

الشیخ احمد الطیب کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ بیٹے کا نام محمود ہے جو پیشے کے اعتبار سے انجینیر ہیں جب کہ بیٹی زنیب الاقصر میں رہائش پذیر ہیں۔ الاقصر گورنری میں الشیخ احمد الطیب گرائونڈ قائم ہے جہاں ڈاکٹر احمد الطیب آتے اور لوگوں کے تنازعات کے حل میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ الشیخ احمد الطیب کی وہاں آمد کے بعد وہاں مجمع لگا رہتا ہے۔ وہاں پر رہائش کا بھی خاطر خواہ انتظام موجود ہے اور اندرون اور بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی بھی خاطر مدارت کی جاتی ہے۔

الشیخ احمد الطیب اور ان کے خاندان کی ملکیت قاہرہ میں بھی ایک کھلی جگہ موجود ہے۔ ان کے بڑے بھائی محمد صوفیہ مسلک کے قریب ہیں۔ وہ اپنے بھائی الشیخ احمد الطیب کے ساتھ مل کر مسلمانوں، قبطیوں اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے مسائل کے حل میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب کے بھائی کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان کی ایک فلاحی تنظیم بھی کام کر رہی ہے جو یتم بچیوں کی کفالت، نگہداشت، تعلیم وتربیت اور ان کی شادی بیاہ کا اہتمام کرنے کے ساتھ جیلوں میں جرمانوں کی عدم ادائی کے باعث قید خواتین کی رہائی کے لیے ان کے جرمانے ادا کرتی اور دیگر مسائل کے حل میں معاونت کرتی ہے۔

شیخ الازھر تنخواہ نہیں لیتے

شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب ایک سفید پوش شخصیت ہیں جو جامعہ سے اپنے کام کی کوئی اجرت نہیں لیتے بلکہ وہ فی سبیل اللہ دین کی خدمت بجا لاتے ہیں۔ تنخواہ کے ساتھ ساتھ وہ دیگر مالی مراعات سے بھی دست بردار ہوچکے ہیں۔ جامعہ الازھر کے فنڈ سے وہ آفت زدہ لوگوں کی مدد کرتے، اسپتال بنواتے، دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی میں ان کی مدد کرتے، دہشت گردی کے متاثرین کے لیے حج اور عمرہ کا اہتمام کرتے اور دیگر خدمات انجام دیتے ہیں۔

حسنی مبارک کا انتخاب

الشیخ احمد الطیب کے گائوں سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی صحافی العزب الطیب الطاھر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2010ء میں جب اس وقت کے جامعہ الازھر کے سربراہ الشیخ محمد الطنطاوی فوت ہوئے تو اس وقت صدر حسنی مبارک جرمنی میں زیرعلاج تھے۔ وہ کینسر کا شکار تھے۔

ان کے سیکرٹری نے جامعہ الازھر کی سربراہی کے لیے ان کے سامنے پانچ افراد پر مشتمل ایک فہرست پیش کی۔ صدر حسنی مبارک نے ان میں سے ڈاکٹر احمد الطیب ک انتخاب کیا۔

جب انہیں اس انتخاب کے بارے میں پوچھا گیا تو صدر مبارک نے کہا کہ احمد الطیب انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ وہ دین متین کی تبلیغ واشاعت کے لیے زیادہ بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں اور فرانسیسی اور انگریزی بولنے والوں تک اسلام کا پیغام احسن طریقے سے پہنچا سکتے ہیں۔

العزب الطیب کا کہنا ہے کہ جامعہ الازھر کے سربراہ اسلام کی اعتدال پسند تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے اور انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔ ان کے ہاتھ پر سیکڑوں غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں۔ جب وہ فرانس میں حصول علم کے لیے موجود تھے تب بھی ان کے ہاتھ پر متعدد افراد نے اسلام قبول کیا تھا۔