.

پینسل سے چہروں کے خاکے بنانے والا روبوٹ تخلیقی فن کار ثابت ہو گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا روبوٹ تخلیقی قوت کے حامل ہو سکتے ہیں ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب برطانیہ میں آرٹ گیلری کے مالک ایڈن میلر اپنے نئے روبوٹ ایڈا کے ذریعے دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایڈا کو تیار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ خاتون روبوٹ اپنے مصنوعی ہاتھ میں موجود پینسل کے ذریعے انسانی چہروں کے خاکے تیار کرنے پر قادر ہو گی۔

ایڈن میلر ان دنوں کارن وال میں واقع کمپنی انجینئرڈ آرٹس میں ایڈا کی تیاری کے آخری مراحل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

میلر نے اس ایڈا کا نام برطانیہ کی معروف ریاضی داں Ada Lovelace کے نام پر رکھا ہے۔ میلر کے مطابق ایڈا دنیا کی پہلی حقیقی فن کار روبوٹ ہے۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایڈا کی کاکردگی اپنے عم عصر انسانوں کے برابر ہو گی۔

میلر نے کہا کہ ایڈا انسانی چہروں کے خاکے بنائے گی اور امید ہے کہ ہم ایسی ٹکنالوجی بھی حاصل کر لیں گے جس سے وہ ان چہروں میں رنگ بھی بھر سکے گی۔

اگرچہ ایڈا کا ہیکلی روبوٹک سَر جسمانیت سے محروم نظر آ سکتا ہے مگر اس کی حرکات بڑی حد تک زندگی کی حامل ہیں۔

ایڈا کی آنکھوں کی پتلیوں میں نصب کیمرے انسانی خدوخال کو پہچانیں گے اور اس کی آنکھیں کمرے میں موجود افراد پر نظر رکھیں گی۔ اگر کوئی شخص ایڈا کے نہایت قریب آئے گا تو یہ خود سے پیچھے ہٹ جائے گی اور حیرت کے انداز میں اپنی پلکوں کو جھپکے گی۔

ایڈا کو تیار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کے سوالوں کا جواب بھی دے گی۔

انجینئرڈ آرٹس کمپنی میں ڈیزائن اینڈ پروڈکشن انجینئر مارکوس ہولڈ کا کہنا ہے کہ "مصنوعی ذہانت کے ذریعے یہ روبوٹ انسانی چہروں کے خدوخال کو پہچان سکے گا اور آپ کے تاثرات کی نقل کر سکے گا"۔

ایڈا روبوٹ کے سر کی تیاری میں Mesmer ٹکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے مکمل ہونے کے بعد ایڈا کے لمبے گہرے رنگ کے بال ہوں گے، سیلیکون کی جلد ہو گی اور 3D مطبوعہ دانت اور مسوڑھے ہوں گے۔

ایڈا کو رواں سال مئی میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی نمائش Unsecured Futures میں متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے تیار کردہ خاکوں کو نومبر میں لندن میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔