سعودی قصبے العوامیہ کا ٹماٹر سبزی ہے یا پھل ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مشرقی ضلع قطیف کے العوامیہ قصبے کا "الرامسی" ٹماٹر ضلع میں زرعی پیداوار کی سطح پر مشہور ترین کاشت شمار ہوتا ہے۔

منفرد شکل کا الرامسی ٹماٹر عالمی معیارات کے مطابق اٹروں کی بہترین کوالٹی کا حامل ٹماٹر سمجھا جاتا ہے۔ اسی کے سبب مملکت میں تجارتی لحاظ سے یہ ٹماٹر دیگر تمام قسموں پر فوقیت رکھتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ الرامسی ٹماٹر کی یہ اعلی ترین کوالٹی صرف العوامیہ قصبے میں کاشت کرنے پر ہی حاصل ہوتی ہے۔ موسم سرما میں العوامیہ کے باسیوں کی جانب سے اپنے پیاروں کو "الرامسی" ٹماٹر کا تحفہ دینا قصبے کے لوگوں کا پرانا رواج ہے جو اپنے ذائقے میں پھلوں کے جیسا ہے۔

ماہرین کے مطابق الرامسی کی اس اعلی کوالٹی کا راز اس کی کاشت کے واسطے استعمال ہونے والی زمین کے اندر ہے ،،، یہ زمین خصوصی ارضیاتی صفات کی حامل ہے۔ اس زمین کے اندر کھارے اور میٹھے پانی کے اختلاط نے زمین کو خصوصی زرخیزی سے نواز دیا ہے۔

سعودی مجلس شوری کے رکن انجینئر نبیہ البراہیم کے مطابق الرامس ٹرسٹ سعودی عرب کے سب سے بڑے سماجی ٹرسٹوں میں سے ایک ہے۔ اس کے زیر انتظام کُل رقبہ 84 لاکھ مربع میٹر ہے۔

آج سے تقریبا 141 برس قبل العوامیہ کے اُس وقت کے میئر سلمان الفرج نے ایک وسیع و عریض زمین کو خرید کر اسے قصبے کے لوگوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ یہ زمین کاشت کاری کے خواہش مند افراد میں تقسیم کی جاتی ہے۔ اگر اس لینے والے نے زراعت میں غفلت برتی تو پھر دی گئی اراضی براہ راست قصبے کے کسی دوسرے شخص کو منتقل ہو جاتی ہے۔

تاریخی محقق عبدالرسول الغریافی کے مطابق "الرامس" اور اس کے ٹماٹروں کو 1950ء کی دہائی میں "ارامكو" کمپنی کے زرعی منصوبوں کے ضمن میں خصوصی توجہ حاصل ہوئی۔

سعودی مجلس شوری کے رکن انجینئر نبیہ البراہیم کے مطابق مملکت کے سائنسی مراکز میں محققین ابھی تک الرامس کے ٹماٹروں کی امتیازی حیثیت کے بارے میں کھوج لگانے میں مصروف ہیں۔ البراہیم نے اس علاقے کو تاریخی اور جغرافیائی یہاں تک کہ انسانی لحاظ سے بھی یادگار قرار دیا ہے۔ یہاں وقف کے نظام سے 1000 سے زیادہ کھیتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں