.

امریکا میں رومن کیتھولک کے اغلام بازی کی لت میں مبتلا مذہبی پیشوا اپنے منصب سے فارغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے امریکا کے سابق کارڈینل تھیوڈور میکریک کو اغلام بازی کے الزامات میں قصور وار ثابت ہونے پر چلتا کیا ہے۔

ویٹی کن نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ حکام نے اپنی تحقیقات کے بعد اس 88 سالہ ضعیف العمر کارڈینل کے خلاف کم سن بچوں اور بالغوں کے جنسی استحصال کے الزامات کو درست قراردیا ہے۔ وہ رومن کیتھولک چرچ کے پہلے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ( کارڈینل ) ہیں جنھیں امرد پرستی کے جرم میں تمام مذہبی ذمے داریوں سے سبکدوش کردیا گیا ہے اور اب وہ نہ تو اجتماعی دعائیہ تقاریب منعقد کرسکیں گے ، مذہبی پیشوا کا لباس پہن سکیں گے اور نہ انھیں کسی مذہبی خطاب سے پکارا جائے گا۔

یہ سزا یافتہ کارڈینل امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں آرچ بشپ رہ چکے ہیں۔ انھوں نے نیو جرسی میں بھی کئی سال گزارے تھے۔انھوں نے امریکا میں چرچ کے لیے رقوم جمع کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ان کے خلاف اس سزا کا اعلان ویٹی کن میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے رومن کیتھولک کے مذہبی پیشواؤں اور پادریوں کے غیر معمولی اجلاس سے پانچ روز قبل کیا گیا ہے۔

پوپ فرانسیس نے گرجا گھروں میں پادریوں کی جنسی ہوس کا نشانہ بننے والے بچوں اور ننوں کی ہوشربا داستانیں منظر عام پر آنے کے بعد یہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ چرچ کو درپیش اس سنگین مسئلے سے نمٹا جاسکے۔ واضح رہے کہ چھوٹے بڑے گرجا گھروں میں مذہبی پیشواؤں اور پادریوں کے ہاتھوں بچوں اور ننوں کے جنسی استحصال کا سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے مگر رومن کیتھولک گرجا گھروں کی انتظامیہ اپنے مذہبی علماء کے جنسی استحصال او ر اغلام بازی کے واقعات کی پردہ پوشی کرتی چلی آ رہی ہے۔

مذہبی پیشواؤں کے جنسی بے راہ روی اور اخلاق باختگی کے اس اسکینڈل نے رومن کیتھولک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور خود پوپ فرانسیس کی پیشوائیت کے لیے بھی خطرات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔بالخصوص اس بوڑھے کارڈینل میکریک کے اسکینڈل نے چرچ کی شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے کیونکہ گرجا گھروں کے حلقوں میں ان کی امرد پرستی کوئی سربستہ راز نہیں رہی تھی اور وہ گرجا گھروں میں زیر تربیت امردو ں کے ساتھ سوتے رہے تھے۔

امریکی چرچ نے گذشتہ سال انھیں 1970ء کے عشرے میں ایک کم سن لڑکے سے جنسی مراسم کے الزام میں قصور وار قرار دیا تھا۔پوپ فرانسیس نے ان تحقیقات کے منظرعام پر آنے کے بعد چرچ کے وقار کو دھبہ لگانے والے ان صاحب کو جولائی 2018ء میں کارڈینل کے منصب سے ہٹا دیا تھا۔

ویٹی کن کے پریس دفتر کے مطابق انھیں مذہبی احکام کی خلاف ورزی اور اپنی مذہبی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب قصور وار قراردیا گیا تھا۔انھوں نے کیتھولک عیسائی فرقے کے ناجائز جنسی تعلقات کی ممانعت کرنے والے چھے مذہبی احکام خلاف ورزی کی تھی ۔

میکریک نے اپنی برطرفی کے خلاف ایک اپیل دائر کی تھی لیکن ویٹی کن نے انھیں مذہبی منصب سے ہٹانے کا اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے۔یادرہے کہ انھیں 1958ء میں پہلی مرتبہ ان کے آبائی شہر نیو یارک میں چرچ کے قواعد وضوابط کے مطابق پادری بنایا گیا تھا۔