ثقافت یا سفاکیت ؟ پاکستان میں پابندی کے باوجود اونٹوں کی لڑائی کا خونیں کھیل جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

یہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وسطی ضلع لیّہ ہے۔یہاں اونٹوں کی لڑائی کے مقابلوں کے لیے میدان سج چکا ہے اور اس میں شرکت کے لیے ملک کے دور دراز علاقوں سے ہزاروں افراد اونٹوں کے قافلے لے کر پہنچے ہیں۔

اونٹوں کے درمیان لڑائی کے اس سفاکانہ کھیل پر پاکستان میں سرکاری طور پر پابندی عاید ہے لیکن یہ اس کے باوجود وسطی پنجاب کے اس علاقے میں بہت مقبول کھیل ہے اور لیّہ شہر میں میلے کے دوران میں لوگ جوق درجوق اس خونیں کھیل کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

لیّہ میں اونٹوں کے درمیان لڑائی میں شرکت کے لیے اونٹوں کو رنگے برنگے پھولوں سے سجا کر لایا گیا ہے، بعض مالکان نے ان پر دیدہ زیب کپڑے بھی ڈال رکھے ہیں۔میلے میں جشن کا سماں ہے اور کہیں ڈھول کی تھاپ پر اونٹوں کا رقص بھی جاری ہے۔اونٹوں کے درمیان مقابلے سے قبل ان کے گلے میں بندھی ٹلیاں اور دوسری آرائشی چیزیں اتار لی جاتی ہیں۔پھر انھیں میدان میں اتارا جاتا ہے۔

مقابلے میں شریک دونوں اونٹ ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی گردن کو منھ میں دبوچنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک اونٹ اپنے حریف کو چت کرنے کے لیے اپنے دانت اس کی گردن میں گاڑھ دیتا ہے۔یوں وہ اس کو نڈھال کرکے زمین پر گرا دیتا ہے اور پھر فاتح ٹھہرتا ہے۔

جونہی ریفر ی اس اونٹ کو فاتح قرار دیتا ہے تو اس کے حامی اس کے گرد دائرہ بنالیتے ہیں، اس کا مالک فخریہ انداز میں اس پر سوار ہوتا ہے اور اپنی فتح کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن اس کی یہ جیت خالی خولی نہیں ہو تی بلکہ میلے کی انتظامیہ کی جانب سے اونٹ کے مالک کو ایک لاکھ روپے کے لگ بھگ نقد انعام بھی دیا جاتا ہے۔

اونٹوں کے درمیان اس لڑائی کو دیکھنے والے شائقین کا جوش وخروش دیدنی ہوتا ہے ۔ وہ بڑھ چڑھ کر اپنے پسندیدہ اونٹ کو داد بھی دے رہے ہوتے ہیں اور وہ اس خونیں کھیل پر قانونی پابندی کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں بلکہ یہ پابندی اونٹ کے چلنے سے اڑنے والی دھول میں اڑا دی جاتی ہے۔عتیق الرحمان نامی ایک شائق کا کہنا تھا کہ ’’ یہ ایک ثقافتی میلہ ہے اور لوگ اس کو جوش وجذبے سے دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔آپ ان کے جوش خروش کو دیکھ سکتے ہیں‘‘۔

پاکستان میں اونٹوں ہی نہیں دوسرے جانوروں کے بھی خونیں کھیل ہوتے ہیں ۔ریچھوں ، مرغوں ، کتوں کی لڑائی کی ایک تاریخ ہے اور انسان اپنی تسکین طبع کے لیے ان جانوروں کو باہم لڑاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں خون ان کا بہتا ہے، زخمی وہ ہوتے ہیں لیکن انعام واکرام کا حق دار فاتح جانور کا ملک ٹھہرتا ہے۔

جانوروں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم سے وابستہ وکیل عبدالاحد شاہ کہتے ہیں کہ ’’ پاکستانی قانونی کے تحت تمام جانوروں کی لڑائی غیرقانونی ہے۔اونٹوں کے درمیان لڑائی کے مقابلوں میں بہت سے جانور زخمی ہوجاتے ہیں لیکن پھر انھیں علاج کی مناسب سہولت مہیا نہیں کی جاتی ہے۔‘‘

انھوں نے اس کی وضاحت کی کہ’’ لوگ زخمی ہونے والے اونٹوں پر مقامی ٹوٹکے آزماتے ہیں اور یہ عمل اور بھی سفاکانہ ہوتا ہے‘‘۔مگر اونٹوں کی لڑائی کے شائقین اس تنقید کو سننے کو تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ تو پنجاب کےا س وسیب کا ایک روایتی کھیل ہے۔اس میں حصہ لینے والے جانوروں کی ایک سال سے زیادہ عرصے تک تربیت کی جاتی ہے ،انھیں ہر طرح سے تیار کیا جاتا ہے اور پھر انھیں مقابلے کے لیے میدان میں اتارا جاتا ہے۔

ایک مقامی سردار محمد علی جتوئی کا کہنا تھا کہ ’’ یہ کھیل تو ہماری ثقافت کا مظہر ہے ۔ لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں ، وہ ایک دوسرے سے ملتے ، حال ا حوال دریافت کرتے اور کچھ وقت کے لیے اپنے مسائل و مصائب بھول جاتے ہیں اور ان کے چہروں پر خوشیاں لوٹ آتی ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ پاکستان کی پارلیمان نے گذشتہ سال امتناع بے رحمی حیوانات کےقانون میں ایک ترمیم کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت جانوروں کو لڑائی پر اکسانے والوں پر جرمانے کی رقم 50 روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کردی گئی تھی ۔ امتناع بے رحمی حیوانات کا اصل قانون برطانوی ہند کی حکومت نے 1890ء میں نافذ کیا تھا اور اس کے بعد اس میں ترمیم نہیں کی گئی تھی۔اسلام بھی جانوروں سے کسی قسم کے سفاکانہ سلوک کی ممانعت کرتا ہے اور ان سے اچھے طریقے سے پیش آنے کی تلقین کرتا ہے لیکن اس قانون اور اسلامی تعلیمات کے باوجود اس علاقے میں اونٹوں کا خونیں کھیل ہزاروں سال سے جاری ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں