.

کیا کوئی شخص پانچ دن میں ’’کُرد‘‘ بن سکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ایک کرد شاعر، مصنف اور دانشور مروان علی کی حال ہی میں ایک کتاب منظرعام پرآئی ہے۔ 'پانچ دن میں آپ کیسے کرد بن سکتے ہیں؟' کے منفرد عنوان سے شائع کتاب میں منتخب اشعار، اہم واقعات اور سوانح حیات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مروان علی کی یہ کتاب شام کے سیاسی، سماجی اور ادبی حالات پر مشتمل ایک شاہکار ہے جس میں انہوں‌ نے منفرد اور اچھوتے انداز میں‌ شام میں موجود شہریوں کے آلام ومصائب کا اظہار کیا ہے۔

جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے'پانچ دن میں کرد کیسے بن سکتے ہیں' محض ایک استعارہ ہے۔ اس کا مقصد شام میں ایک شاعر، ادیب بلکہ ایک عام شہری چائے وہ مادر وطن میں ہو یا غریب الوطن ہو کے دکھوں کا اظہار کیا گیا۔

ایک عام شہری کی زندگی کی مشکلات شام میں حافظ الاسد دور آمریت سے جاری ہیں۔ اس کتاب میں بھی اسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ شام کے انتہائی سخت اور آہنی سیاسی نظام کے شکنجے میں کسی شاعر اور ادیب کے لیے اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار محض خواب ہے۔ مروان علی کی کتاب اٹلی کے مڈل ایسٹ پبلشنگ ہائوس کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں سویڈش ہائوس کے تعاون سے شائع کی گئی ہے۔

شامی کرد شاعر نے اپنی کتاب میں متعدد ادبی انواع کو شامل کیا ہے۔ کتاب کا ایک حصہ منتخب اشعار پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہ کہانیوں اور واقعات کا احاطہ کرتا ہے جب کہ تیسرا جزو سوانح حیات پر مشتمل ہے، جس میں مختلف شخصیات کی سوانح عمری بیان کی گئی ہے۔ گویا ایک ہی وقت میں یہ کتاب کئی ادبی اصناف سخن کا مرقع ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ 'میں نہیں جانتا کہ میں اپنی کتاب کو فکشن کی کس شاخ سے منسوب کروں۔

چونکہ تم حافظ الاسد کے سپاہی ہو، اس لیے جنت کے مستحق ہو

مروان علی نے اپنی منفرد ادبی کتاب میں شام کے ماضی کے اوراق کی ورق گردانی کی ہے۔ شام کے ماضی قریب کی سیاست کو پڑھتے ہوئے قاری پر خوف کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسد رجیم کے ایک سابق فوجی افسر محمد منصورہ الحسکہ گورنری کے معاون گورنر تھے۔ محمد منصورہ قیدیوں پر تشدد اور اپنے انتہا پسندانہ طرز عمل کی وجہ سے مشہور تھا۔ اس کے ایک اشارے پر کسی بھی شخص کو بالوں سے گھسیٹ کر کہیں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

منصورہ کا ایک بیان مشہور ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ حافظ الاسد کے تمام سپاہی جنتی ہیں۔ اس لیے کہ دنیا میں جھنم صرف ایک ہے اور وہ ملٹری انٹیلی جنس کے زیرانتظام قائم ہے۔ کتاب میں شامی شہریوں کی غریب الوطنی اور ملک کے اندر رہتے ہوئے شہریوں کو درپیش مشکلات اور اسد رجیم کے مظالم کا احاطہ کیا گیا۔