نیتن یاہو کی ’گل افشانیِ گفتار‘ ،پارلیمانی انتخابات ’’بِبی بمقابلہ طِبی‘‘ بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جب جب سیاسی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تو وہ میڈیا پر چڑھ دوڑتے ہیں ،اپنے سیاسی مخالفین کے لتے لیتے ہیں یا پھر اسرائیل میں آباد عرب اقلیت کو جلی کٹی سنانا شروع کردیتے ہیں۔ان کی اس تمام گلِ افشانی گفتار کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ قوم پرست یہود کی حمایت اور ہمدردیاں سمیٹنا ہے۔

وہ 9 اپریل کو اسرائیل میں ہونےو الے پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنے مخالفین پر یہی آزمودہ نسخہ دوبارہ آزما رہے ہیں ۔اب کہ ان کا ہدف معروف عرب رکن پارلیمان احمد طِبی ٹھہرے ہیں۔نیتن یاہو کو کرپشن کے الزامات پر مقدمے کا سامنا ہے۔اس کی فرد جرم ان پر عاید ہوا ہی چاہتی تھی لیکن اس کو ڈرامائی طور پر مؤخر کردیا گیا ہے اور وہ اب کرپشن کے اس داغ کو مٹانے کے لیے اپنی انتخابی تقریروں اور میڈیا سے گفتگوؤں میں احمد طبی کو ایسے ہی بے جا تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ انھیں اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرے کے طور پر پیش کررہے ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح دراصل وہ تمام عرب کمیونٹی کی وفاداری ہی کو مشکوک بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

نیتن یاہو انتخابی مہم کے دوران میں اب تک کئی مرتبہ اپنے عرفی نام ’’ببی‘‘ کا ذکر کرکے یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ انتخابات ’’بِبی بمقابلہ طِبی‘‘ ہیں۔ا ن کا یہ نعرہ ان کے انتہا پسند اتحادیوں کو بھی بھایا ہے ،وہ بھی ان کی تائید کررہے ہیں ۔وہ اپنے مخالفین کو کم زور ’’ بائیں بازو‘‘ والے کے طور پر پیش کررہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ عرب اسرائیلیوں کے ساتھ مل کر سازشیں کررہے ہیں اور میڈیا سے مل کر ان کے اقتدار کے خاتمہ چاہتے ہیں۔

ان کے اس طرح کے بھونڈے الزامات سے یہ ہوا ہے کہ احمد طبی اسرائیلی میڈیا میں مزید نمایاں ہوگئے ہیں ۔وہ کئی مرتبہ اسرائیلی پارلیمان کے رکن رہ چکے ہیں ۔وہ روانی سے عبرانی سے بول سکتے ہیں۔اس لیے اسرائیلی میڈیا انھیں بھی ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے۔وہ نیتن یاہو حکومت کی عرب شہریوں اور فلسطینیوں کے بارے میں جارحانہ پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں ۔

احمد طبی مقبوضہ بیت المقدس کے ایک محلے میں رہتے ہیں ۔نیتن یاہو کی تازہ غوغا آرائی پر انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا:’’اس ہفتے تک مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ میں اپنی مرضی کے برعکس وزارت ِعظمیٰ کا صفِ اوّل کا امیدوار ہوں ‘‘۔وہ خوب حسِ مزاح رکھتے ہیں لیکن انھوں نے نیتن یاہو کے اسرائیل کی عرب اقلیت کے بارے میں ملفوظات پر اپنی تشویش کا بھی اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح عرب جماعتوں ، عرب ارکان پارلیمان اور عرب عوام کو عمومی طور پر بے توقیر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔نیتن یاہو یہ باور کرارہے ہیں :’’ مجھے ایک محب وطن یہودی لیڈر کے طور پر منتخب کرو ،نہیں تو عرب ملک کا اختیار سنبھال لیں گے اور وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ کون وزیراعظم ہونا چاہیے اور وہ اس کو ایک ڈراؤنے خواب سے تعبیر کررہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے قیام کے وقت اپنی آبائی سرزمین پر رہ جانے والے فلسطینی عربوں کی تعداد صہیونی ریاست کی کل آبادی 90 لاکھ کا 20 فی صد ہے۔انھیں نام کی حد تک تو مکمل شہری حقوق حاصل ہیں مگر انھیں عشروں سےامتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے خلاف اسرائیلی فوج بھی پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔

نیتن یاہو کی سبکدوش ہونے والی حکومت نے ایک متنازعہ قانون منظور کرایا تھا اور اس کے تحت اسرائیل کو یہودی عوام کی قومی ریاست قرار دے دیا گیا تھا اور اس طرح انھوں نے عرب اقلیت کو مزید دیوار سے لگانے کی کوشش کی تھی۔مزید برآں اسرائیلی پارلیمان کی ایک کمیٹی نے ایک عرب جماعت پر پابندی لگانے کی بھی سفارش کی تھی اور اب نیتن یاہو دوبارہ منتخب ہونے کی امید میں عرب مخالف انتہا پسند یہود کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

اب تک انتخابی مہم میں اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ بینی گانٹز وزیراعظم نیتن یاہو کے ایک مضبوط حریف کے طور پر سامنے آئے ہیں لیکن وہ عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر حکمراں اتحاد تشکیل نہیں دے سکیں گے اور عرب جماعتیں کبھی اسرائیل میں حکومتی اتحاد کا حصہ نہیں رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں ایسا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ خود گانٹز بھی عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کو مسترد کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل کی حکومت کو مستحکم بنانے کے لیے پارلیمان میں عرب بلاک کی حمایت پر انحصار نہیں کریں گے۔

60 سالہ احمد طبی اسرائیل میں آباد عربوں کو درپیش بہت سے مسائل اور تناقضات بیان کرتے ہیں ۔وہ ایک اسرائیلی اسپتال میں کئی سال تک گائناکالوجسٹ کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وہ اسرائیلی پارلیمانی کے رکن ہونے کے ساتھ مرحوم فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کے مشیر بھی رہے تھے۔ وہ گذشتہ دو عشرے کے دوران میں اسرائیل میں عربوں کے حقوق کے علمبرار اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے وکیل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔اسرائیلی پارلیمان کے انتہا پسند یہودی ارکان انھیں ایوان میں اکثر’’ پانچویں کالم‘‘ کا خطاب دیتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ سب سے مقبول رکن پارلیمان ہیں ۔حتیٰ کہ وہ اسرائیلی یہود میں بھی مقبول ہیں۔ وہ ان کے ٹیلی ویژن چینلوں پر نمودار ہوتے ہیں اور اپنے برجستہ چٹکلوں سے ناظرین کو محظوظ کرتے رہتے ہیں۔

انھوں نے پارلیمان میں ماحولیات اور صارفین کے حقوق کے لیے قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ہولو کاسٹ کی یاد گار کی تعمیر اور یاد منانے کے عمل میں بھی وہ پیش پیش رہے تھے۔اس وجہ سے بھی بہت سے یہود انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔حالیہ انتخابی مہم کے دوران میں وہ نیتن یاہو کے مدمقابل کسی بڑے حریف کی تائید سے گریزاں رہے ہیں ۔وہ نیلی اور سفید ( بلیو اینڈ وائٹ) جماعت کی قیادت کے بھی کوئی زیادہ حامی نہیں ۔اس میں گانٹز سمیت تین سابق آرمی چیف شامل ہیں اور وہ انھیں ’’قابض فوج‘‘ کے سربراہ کہتے رہے ہیں۔

مگر اس سب کے باوجود وہ نیتن یاہو کو کرسیِ اقتدار سے چلتا کرنے کے حق میں ہیں ۔وہ اسرائیلی وزیراعظم کو عربوں سے نفرت کرنے والا قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول مضبوط بنا کر اسرائیل کو ایک خطرناک گہرائی کی جانب لے جارہے ہیں ۔

ان کے بہ قول ’’یہ ممکن ہے کہ بنیامین نیتن یاہو ہمیں ایک دوقومی ریاست کی جانب لے جارہے ہیں ۔پھر یا تو یہ ایک نسل پرست ریاست ہوگی جس میں صرف یہود ووٹ دے سکیں گے یا یہ ایک جمہوری ملک ہوگا جس میں ایک شخص کا ایک ووٹ ہوگا ‘‘۔اس کے بعد طبی کہتے ہیں :’’ اگر یہ ہوتا ہے تو کل کلاں میں ببی کے خلاف امیدوار ہوں گا اور پھر یہ حقیقی معنوں میں ببی بمقابلہ طبی ہوگا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں