.

عربی زبان کے الفاظ جو کسی فرماں روا سے گفتگو میں نہیں بولے جاتے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی زبان کی تصنیفات میں بادشاہوں کے ساتھ تخاطب کے آداب کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں بادشاہ اور دیگر افراد سے تخاطب میں فرق، شاہ کی موجودگی میں تصرفات کا طریقہ اور شاہ کی مجلس میں داخل ہونے اور نکلنے کا طریقہ وغیرہ شامل ہیں۔

بادشاہوں سے مراد خلفاء بھی ہیں۔ اقتدار کے مفہوم کو اجمالی بنانے کے واسطے عرب مصنفین نے یہ اصطلاح بھی استعمال کی ہے۔ ان کا آغاز بنو امیہ کے خلفاء (بادشاہوں) سے ہوا اور اختتام بنو عباس کے خلفاء (بادشاہوں) پر ہوا۔ لہذا عرب مصنفین کی کتابوں میں مُلوک (بادشاہوں) کا لفظ خلفاء کے لیے بھی آیا۔

عرب تصنیفات میں بہت سی کتابیں بادشاہوں کے آداب یا اخلاق سے متعلق تحریر کی گئیں۔ ان کا مقصد عوام اور خواص کو بادشاہوں کے ساتھ معاملات کے آداب کی تعلیم دینا تھا۔ ان کتابوں میں عبدالملک بن محمد الثعالبی کی (آداب الملوك) میں بادشاہ کے سامنے تصرف اور مکمل پروٹوکول کے اصول بیان کیے گئے۔ عمرو بن بحر الجاحظ کی (التاج في أخلاق الملوك) میں بادشاہوں کے لیے نصائح اور مشورے شامل ہیں۔ یہ کتاب سیاسی فکر اور ریاست کے انتظامی امور سے زیادہ متعلق ہے۔ علاوہ ازیں علی بن حبیب الماوردی کی (نصيحة الملوك)، الحسین بن بدر بن ایاز کی (آداب الملوك) اور ہلال بن المحسّن الصابی کی (رسوم دارالخلافة) بھی مشہور کتابیں ہیں۔

جہاں ایک طرف عربی کی درجنوں تصنیفات میں بادشاہوں اور امراء کے ساتھ تخاطب کے آداب بیان کیے گئے ہیں وہاں دیگر کتابوں میں ایسے الفاظ سے خبردار بھی کیا گیا ہے جو بادشاہوں کے ساتھ گفتگو میں ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔

ثعالبی نے اپنی کتاب (آداب الملوك) میں ایسے الفاظ کے بارے میں کئی روایتیں بیان کی ہیں جو کو بادشاہوں اور فرماں رواؤں کے ساتھ گفتگو میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ان الفاظ میں ایک لفظ "استکتب" (منشی ، محرّر یا کاتب بنانا) ہے۔ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اس لفظ کو بادشاہوں کے لیے استعمال پر تنبیہ کی۔

اسی طرح بادشاہوں کا امتحان بھی نہیں لیا جاتا یعنی ان کے لیے کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں ہوتا جس کا مقصد بادشاہوں کے علم و معرفت کا امتحان لینا ہو۔ یہ کسی طور بھی فرماں رواؤں کے شایان شان نہیں ہے۔ ثعالبی نے ساتویں اموی خلیفہ یزید بن عبدالملک کا قصہ بیان کیا ہے جس نے اپنی مجلس میں خلیفہ سے ایک شعر کا مطلب پوچھنے والے شاعر کی شدید زجر و توبیخ کی تھی۔

ایک اور واقعے میں عربی زبان کے ایک بڑے عالم الاصمعی بھی خلیفہ ہارون الرشید سے مخاطب ہوتے ہوئے غلطی کر بیٹھے تھے۔ خلیفہ نے الاصمعی سے عربوں کے ایک معاملے سے متعلق سوال کیا تو الاصمعی نے اتراہٹ کے ساتھ جسارت کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ "امیر المؤمنین آپ تو رُسوا ہو گئے"۔ اس پر ہارون الرشید کے ایک گورنر نے غصے میں کہا کہ "اللہ تجھے ذلیل اور رُسوا کرے۔ کیا خلفاء کو اس طرح مخاطب کیا جاتا ہے؟"۔

جاحظ نے اپنی کتاب (التاج في أخلاق الملوك) میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جو عباسی خلیفہ المنصور اور ایک نوجوان کے درمیان پیش آیا۔ اس نوجوان نے خلیفہ کی جانب سے دوپہر کے کھانے کی دعوت کو یہ بول کر مسترد کر دیا کہ "میں کھانا کھا چکا ہوں!"۔ بعد ازاں نوجوان کو خلیفہ کی مجلس سے باہر نکال دیا گیا۔ نوجوان کے گھر والوں نے المنصور کی مجلس سے اپنے بیٹے کو بے دخل کیے جانے کی شکایت کی تو ان سے کہا گیا کہ "خلیفہ نے کھانے کی دعوت دی تو نوجوان نے جواب دیا کہ میں کھا چکا ہوں۔ امیر المومنین کے ساتھ صرف چند لقمے تناول فرمانے ہوتے ہیں!"۔ اس طرح نوجوان کے گھر والوں کو علم ہو گیا کہ بادشاہوں کی جانب سے کھانے میں ہم نشینی کی دعوت کا مطلب سیر ہو کر کھانا نہیں ہوتا۔ لہٰذا نوجوان کا جواب کسی طور بھی خلیفہ کے شایان شان نہیں تھا۔

جاحظ نے کئی الفاظ کا ذکر کیا ہے جو بادشاہ کو مخاطب کر کے نہیں بولے جانے چاہئیں۔ بادشاہ سے بات کرنے والے کو یہ نہیں بولنا چاہیے " میری بات سنیے۔۔ میری بات سمجھیے۔۔ کیا آپ نہیں دیکھتے۔۔"۔

احمد بن محمد ابن عبد ربہ کی کتاب (العقد الفريد) میں بادشاہوں اور فرماں رواؤں کے ساتھ مخاطبت کے بہت سے آداب بیان کیے گئے ہیں۔ ابن عبد ربہ کے مطابق گفتگو میں پشیمانی کا انداز اور جواب میں نرمیت ہونی چاہیے تا کہ متکلم عتاب سے محفوظ رہ سکے۔

ثعالبی نے اپنی کتاب (آداب الملوك) میں ایک عبارت تحریر کی ہے جو اس نے اپنی ایک دوسری تصنیف (المبهج) سے لی ہے۔ یہ عبارت آج دنیا بھر میں ہزاروں سیاسی پناہ گزینوں کے وجود کو کافی حد تک کم کر سکتی ہے۔ ثعالبی نے لکھا کہ "اوطان، جہاں انصاف کریں سلطان !"