.

’’جنسی ویڈیو ‘‘میں ایسا کیا ’’پنہاں‘‘ پیغام ہے کہ لوگ دھڑ ا دھڑ دیکھے جارہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردو کے مشہور شاعر میر تقی میر اپنی ایک غزل میں کہتے ہیں ؎

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے
چشم دل کھول اِس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
ایسا ہی کچھ معاملہ حال ہی میں انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلنے والی ایک ویڈیو میں نظر آتا ہے۔اس میں ایک نازک اندام ماڈل حسینہ نمودار ہوتی ہے ۔ وہ اپنے سرخ انابی ہونٹوں کو جنبش دیتے ہوئے کہتی ہے : ’’عوامی جمہوریہ کانگو میں ہر سات میں سے ایک بچّہ اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے قبل موت کے مُنھ میں چلا جاتا ہے‘‘۔

پھر ایک اور ماڈل پردۂ سکرین پر نمودار ہوتی اور یہ کہتی ہے:’’ آپ مجھے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ تو سیکسی ہے؟‘‘پھر وہ لمبے چوڑے اعداد وشمار بیان کرنے لگتی ہے اور بتاتی ہے کہ ’’ہر روز 18 ہزار کم سن بچے قابلِ بچاؤ وجوہ کی بنا پر موت کے مُنھ میں چلے جاتے ہیں‘‘۔

پھر ایک کے بعد دوسری حسینہ اور خوبرو نوجوان ویڈیو میں نمودار ہوتے ہیں اور اسی طرح کا کوئی نہ کوئی پیغام دیتے چلے جاتے ہیں۔یہ ویڈیو دراصل نیویارک میں فلمائی گئی ہے اور اس کو عالمی خیراتی ادارے اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سیوا دا چلڈرن نے ویڈیو شئیرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب پر تین روز قبل پوسٹ کیا ہے۔ اس کے بعد سے یہ ویڈیو قریباً نو لاکھ مرتبہ دیکھی جاچکی ہے۔

اس ویڈیو میں نمودار ہونے والی بعض ماڈل تو بچوں سے متعلق ہوشربا اعداد وشمار بیان کرتے ہوئے باقاعدہ ’’ صدمہ زدہ‘‘ نظر آرہی ہیں مگر بعض خوبرو نوجوان اور حسینائیں ہنستی مسکراتی بھی نظر آرہی ہیں ۔جیسے یہ کوئی سوچا سمجھا ناٹک ہورہا ہے۔اس ویڈیو کے تخلیقی ڈائریکٹروں میں سے ایک وینسٹ پیون کا ایک انٹرویو میں کہنا ہے کہ ’’ بعض لوگ تو جو کچھ کہہ رہے ہیں،اس پر وہ خود صدمے سے دوچار نظر آرہے ہیں ، بعض غیر خوشگوار اور کھسیانے انداز میں مسکر ا رہے ہیں لیکن ان سب کا یہ تمام ردِّعمل دراصل ایک طرح سے متعلقہ ہی نظر آرہا ہے‘‘۔

اس ویڈیو میں بچّوں کی ناگہانی اموات کو موضوع بنایا گیا ہے اور نمودار ہونے والی حسینائیں اور خوبرو نوجوان مختلف ممالک اور خطوں میں قدرتی آفات ، جنگوں یا بیماریوں کے نتیجے میں موت کا شکار ہونے والے بچوں کے اعداد وشمار بیان کررہے ہیں۔ان کا مقصد کیسا ہی نیک رہا ہوں لیکن یوٹیوب پر بعض ناظرین نے اس ویڈیو کے بنانے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور ان پر سخت تنقید کی ہے۔

ایک صارف نے لکھا ہے:’’اس کمرشل کا بالکل بھی کوئی جواز نہیں ۔یہ بالکل غیر واضح ہے کہ وہ کس کو طنز کا نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کا اس چیریٹی سے کیا تعلق جوڑا جا سکتا ہے جس کے لیے یہ ساری محنت کی گئی ہے‘‘۔

ایک اور نے لکھا :’’ انھوں نے جو رقم اس عوامی ناٹک پر صرف کی ہے ،اس سے وہ بچوں کو بچا سکتے ہیں ۔محض سستی شہرت کے لیے اس ڈرامے کا کوئی جواز نہیں تھا‘‘۔

امریکا سے تعلق رکھنے والی میڈیا کی تنظیم این پی آر نے اس ویڈیو پر آنے والے تبصروں اور ردعمل کا خلاصہ ایک بلاگ مضمون میں کچھ یوں بیان کیا ہے:

’’یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی سیودا چلڈرن کی ویڈیو پر بعض تبصرے تو حسیناؤں کی حُسن کی اداؤں سے متعلق ہیں لیکن بعض نے بچوں کے مسائل اور تولیدی صحت کے بارے میں سنجیدہ گفتگو بھی کی ہے۔اس ویڈیو سے امید یہ وابستہ ہے کہ ا س کو دیکھنے والوں میں سے بعض ’’مزید جانیے‘‘ ( لرن مور) پر کلک کریں گے اور شاید کوئی رقم بھی عطیہ کریں گے‘‘۔

برطانیہ میں قائم اس چیرٹی تنظیم سیو دا چلڈرن نے سال کے اوائل میں ایسی ہی ایک اور ویڈیو جاری کی تھی اور اس میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ’’اگر لندن میں شام کے طرز کی خانہ جنگی چھڑ جاتی ہے تو پھر برطانوی بچوں کی زندگیاں کس طرح کی ہو سکتی ہیں ‘‘۔