.

پہاڑ، چوٹیاں سر کر کے تصویری شاہکار تخلیق کرنے والا سعودی فوٹوگرافر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سعودی فوٹو گرافر گذشتہ پندرہ برس سے مکہ مکرمہ کے جمالیاتی مناظر کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ بنا رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے مقدس شہر کے بلند وبالا پہاڑ سر کئے، وسیع وعریض وادیوں کی خاک چھانی اور کئی بلند وبالا مقامات تک رسائی حاصل کی تاکہ وہ مکہ مکرمہ کے متعدد اہم مقامات کے حسن وجمال کو مختلف زاویوں سے کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ کر سکے۔ یہ مرحلہ سر کرنے کے لئے اس عظیم فوٹو گرافر نے تمام خطرات اور موسمی شدائد کو بالائے طاق رکھ کر اپنے منفرد شوق کی تکیمل کی۔

فوٹو گرافر یوسف بجاش نے کئی برسوں کی ریاضت کے بعد اپنے کیمرے سے بنائی گئی متعدد تصاویر پر مشتمل ایک پیکج ریلیز کیا ہے۔ شایقین نے ان شاندار مناظر کو پیشہ وارانہ جمال کا مظہر قرار دیا ہے۔ بجاش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا’’میں پندرہ سال سےمختلف کیمرے خرید کر انہیں کما حقہ استعمال کرنے کی تربیت قدرتی مناظر کی تصاویر بنا کر حاصل کرتا رہا۔ فوٹو گرافی کی مہارت سے متعلق اسپیشل ٹریننگ پروگراموں میں شرکت کے بعد میں یہ تصاویر اپنے لئے محفوظ کرتا رہا، جنہیں اب میں سوشل میڈیا پر ریلیز کرنے کا پروگرام بنایا ہے تاکہ ہم ذوق افراد تک میری کاوش پہنچ سکے اور وہ اسے دیکھ کر گرانقدر فیڈ بیک اور تبصروں سے مجھے آگاہ کر سکیں۔‘‘

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بجاش نے بتایا کہ ’’میری فوٹو گرافی کا محور مکہ المکرمہ کی عمارتیں، قدرتی مناظر، پرانی کالونیاں اور عام انسان کی زندگی رہی ہے۔ مجھے طلوع قمر، غروب وطلوع شمس کے مناظر کو مکہ المکرمہ کی اہم سنگ میل عمارتوں کے ساتھ فلمانا اچھا لگتا ہے۔ اس میں الحرم المکی الشریف کے میناروں کے جلو میں ’’جبل النور‘‘ جیسی اہم پہاڑی چوٹیوں کی تصاویر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’فوٹو گرافی کے ذریعے اشیاء کے کئی ایسے پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں کہ انسانی آنکھ جن کا ادراک کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ اس سے آپ کو فطرت کے حسن وجمال پر غور وخوض کا موقع ملتا ہے۔ دور کی چیزوں، چاند، سورج اور ستاروں میں پائی جانے والی چھوٹی چھوٹی چیزیں نمایاں دکھائی دیتی ہیں اور آپ اللہ کی صناعی میں کھو جاتے ہیں۔

اپنی شاہکار تصاویر سے متعلق بات کرتے ہوئے یوسف بجاش نے بتایا کہ ’’مکہ المکرمہ کے آسمان اور کلاک ٹاور پر بجلی کڑکنے کے مناظر کی تصاویر میں نے گذشتہ برس اتاریں اور اس مقصد کے لئے میں تادیر بارش میں بھیگتا رہا۔ بجلی کوندنے کے منظر کی تصویر کشی میں کیمرہ مین کا کوئی کمال نہیں، اسے اس لمحے کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ تیاری کرنا ہوتی ہے اور جونہی وہ تمام اسباب جمع ہوتے ہیں تو ایسے مناظر کو فلم بند کرنا آسان ہو جاتا ہے۔‘‘

بجاش نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس بات سے قطع نظر کہ میں ان خوبصورت تصاویر بناتے وقت کئی بار چکرا کر گرا جس سے میرا پاؤں بھی زخمی ہوا، تاہم میں اپنے دل پسند مناظر کی تصاویر بنانے میں بالآخر کامیاب ہو گیا۔

یوسف بجاش کی تصاویر کو شائقین سوشل میڈیا پر فوٹو گرافی کے دلدادہ افراد کی بڑی تعداد پسند کرتی ہے کیونکہ انھوں نے اپنی فوٹو گرافی کے ذریعے مکہ المکرمہ کے ایسے پہلو منکشف کئے ہیں جنہیں اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔