کیا ایران تیل برآمدات پر پابندی کا بدلہ آبنائے ہرمز بند کر کے لے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

خلیج عرب کو بحر اومان سے ملانے والی آبی گذرگاہ 'آبنائے ہرمز' کو گذشتہ چند عشروں سے ایران کی طرف سے بند کیے جانے کی مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اگر ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیاں نہ ہوتیں تو شاید دنیا کے اس بین الاقوامی آبی راہ داری کے نام سے بھی واقف نہ ہوتی۔ چنانچہ آبنائے ہرمز کی شہرت کے پیچھے ایران کا مسلسل واویلا بھی کار فرما ہے۔ اس رپورٹ میں اس امر کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا ایران عملا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ اگر ایران ایسا کرتا ہے تو اسے اس کی کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی جانب سے سنہ 1980ء سے 1988ء تک جاری رہنے والی عراق۔ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کی دھمکی دی گئی۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی مگر ایران اس آبی گذرگاہ کو بند نہ کر سکا۔ سنہ 1983ء کو اس وقت کے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرشد اعلیٰ روح‌ اللہ خمینی کے نمائندے کے حیثیت سے علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے دھمکی دی کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز 130 اور 175 ملی میٹر دھانے والی ایرانی توپوں کے سائے میں آنے والی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کلاشنکوف کی مدد سے بھی بحری جہازوں کا راستہ روکیں گے مگر اس تنبیہ اور دھمکی کے باوجود ایران آبنائے ہرمز میں ایک گولی بھی نہ چلا سکا۔

سنہ 2011ء کو جب امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کاعندیہ دیا تو اس وقت کے شدت پسند ایرانی صدر محمود احمدی نژاد میدان میں کود پڑے اور عالمی منڈی تک دنیا کے ایک تہائی تیل کی رسائی کا ذریعہ بننے والی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی، مگر یہ دھمکی بھی محض لفظی ثابت ہوئی۔ عملا ایران آبنائے ہرمز کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔

ایران کی جانب سے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات صفر تک لانے کا تہیا کر رکھا ہے۔ ایران اگر عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے امریکا کی طرف سے پیش کردہ 12 شرائط تسلیم کرنے کے بعد مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔ فی الحال امریکا اور ایران کےدرمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔ ایران کے شدت پسند فوجی جرنیل اور 'اعتدال پسند' صدر سمیت سب آبنائے ہرمز کی بندش اور دنیا کو ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل تیل کی یومیہ سپلائی سے محروم کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

جولائی 2018ء کو سوئٹرزلینڈ کے دورے کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ امریکی ایرانی تیل کی برآمدات مکمل طور پر بند کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا ایران کو عالمی منڈی میں اپنے تیل کی سپلائی سے نہیں روک سکتا۔ ایسا کرنا امریکیوں کے بس کی بات نہیں۔ میں کہتا ہوں‌ کہ اگر اتنی ہمت اور جرات ہے تو ایران کا تیل بند کر کے دکھائو اور اس کے بعد اس کے نتائج بھی دیکھو۔

ایرانی صدر کا یہ بیان امریکا اور خطے میں تیل برآمد کرنے والے دوسرے ملکوں کے لیے کھلی دھمکی تھی۔ اس دھمکی کے ساتھ ساتھ ایرانی بحریہ نے خطے میں فرضی دشمن سے نمٹنے کی تیاری کے لیے مشقیں بھی شروع کردیں۔

ایرانی امور کے علاقائی اور عالمی ماہرین نے امریکی عہدیداروں کے بیانات کی روشنی میں ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں‌ کا تجزیہ کیا ہے اور اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ آیا ایران عملا ابنائے ہرمز کو بند کر بھی سکتا ہے یا یہ صرف تہران کی طرف سے گیدڑ بھبکیاں ہیں؟۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران محدود وقت کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرسکتا ہے مگر یہ اتنا آسان نہیں۔ اسے آبنائے ہرمز کی بندش کے بدلے میں بہت کچھ کھونا پڑ سکتا ہے اور یہ اچھا خاصا مہنگا کام ہے۔

"بی بی سی" فارسی نے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سابق چیئرمین کارٹن ڈمپسی کا ایک بیان نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2011ءکو ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی کے بعد ایران نے محدود وقت کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی دی اور ہم نے اس بات کی یقین دہانی کی ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کر سکتا۔ اگر ایران آبی گذرگاہ کو بند کرتا ہے تو اسے کھولنا زیادہ مشکل نہیں بلکہ ایک چھوٹے سے آپریشن میں اسے کھولا جا سکتا ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ ایران یا کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز کو بند تو کرسکتا ہے مگر ایسا کرنے والا صرف امریکا نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے ساتھ مقابلے پرآئے گا۔ ایران کے لیے آبنائے ہرمز بند کرنا آسان مگر اسے مسلسل بند رکھنا بہت مشکل ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو جنگ کی دعوت دی ہے۔ ایسی صورت میں امریکا اپنے علاقائی اور عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے فوجی کارروائی بھی کرسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز صدیوں پرانی عالمی آبی گذرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ تیل کی دریافت سے قبل آبنائے ہرمز سے ہیرے موتے، خوشبوئیں، کشتیاں اور مسالحہ جات برصغیر اور مشرقی افریقا کے ساحلی علاقوں تک پہنچائے جاتے۔ آبنائے ہرمز ایران، ہندوستان اور افریقی ملکوں تک بحری تجارت کا راستہ تھی۔ آج کے دور میں تیل کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت ہے۔ یہاں سے دنیا بھر کو ایک تہائی تیل کی سپلائی ہوتی ہے۔

کرہ ارض پر مجموعی طورپر 8 بڑی اور مشہور آبی گذر گاہیں ہیں جن میں آبنائے ہرمز کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں سے دنیا بھر کو تیل کی شکل میں سیاہ خزانے کا 19 فی صد سپلائی کیا جاتا ہے۔

امریکی توانائی کےشعبے کے اعداد وشمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے سال 2016ء کےدوران روزانہ ایک کروڑ 85 لاکھ بیرل تیل گذرتا رہا۔ یہ مقدار پوری دنیا کو سپلائی کیے جانے والے تیل کا یومیہ 19 فی صد ہے۔ پوری دنیا کو یومیہ 9 کروڑ 72 لاکھ بیرل تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے آبنائے ہرمز ایران اور سلطنت اومان کے درمیان 50 کلومیٹر چوڑی پٹی کی شکل میں واقع ہے جبکہ بحری جہازوں کی گذرگاہ 40 کلومیٹر ہے۔ اس میں 10 کلومیٹر کا سمندری علاقہ بڑے جہازوں کی آمد ورفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جہاں تک ایران کی آبنائے ہرمز کو بند کرکی صلاحیت کا سوال ہے تواس باب میں بھی ایران کے پاس کچھ زیادہ وسائل نہیں۔ ایران کی بحریہ کا سعودی عرب کی بحریہ سے موازنہ کیا جائے تو شاہی بحریہ ایران سے زیادہ جنگی آلات اور وسائل سے لیس ہے۔ ایران کو آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب سے نہیں بلکہ امریکا سے مقابلہ کرنا ہو گا اور امریکی بحریہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقت بحریہ کہلاتی ہے جس کے مقابلے میں ایرانی نیوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

سعودی عرب کے پاس ایسی جنگی کشتیاں موجود ہیں جو راڈار پر نہیں دیکھی جا سکتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اپنی بحریہ کے دفاع کے لیے بہتر فضائی معاونت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران کے پاس سنہ 1970ء کے دور میں بنائی گئی "لونڈ " اور "موج" جیسی ازکار رفتہ جنگی کشتیاں ہیں۔ ایرانی فضائیہ نیول فورس کا تحفظ کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔

اس کے مقابلے میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ملکوں فضائی کمک کے جدید ترین وسائل موجود ہیں۔ ایران کے پاس زمین سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل، تیز رفتار کشتیاں اور 'کیلو' ماڈل کی پرانی آبدوزیں ہیں جو علاقائی پانیوں میں تو ایران کا دفاع کر سکتی ہیں مگر عالمی پانیوں میں ان کا عالمی نیول فورسز کے ساتھ مقابلہ نہیں ہو سکتا۔

ایرانی بحریہ کے پاس پرانے طرز کے جنگی جہاز ہیں۔ لے دے کے ایران کے پاس تیز رفتار کشتیاں جنہیں 'خودکش کشتیوں' کے مترادف سمجھا جاتا ہے جیسے آلات ہیں۔ ان کشتیوں کو جنگی طیاروں اور امریکی ساختہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی بحریہ کے بہت سے آلات اور ہتھیار ناکارہ ہوچکے ہیں۔ ان کی مرمت بھی نہیں کی جاسکتی۔ ایسےحالات میں ایران کےلیے خطے کےدیگر ممالک کی نیول فورس کے ساتھ مقابلہ بہت مشکل ہے۔

چینی ساختہ میزائل شکن نظام سے لیس 'اسپیڈ بوٹس' کی کل تعداد 20 بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی پاسداران انقلاب کے پاس سویڈن کی تیار کردہ اسپیڈ کشتیوں کی تعداد 40 ہے جب کہ ایران کی مقامی سطح پر تیار کردہ کشتیوں کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں لگای جا سکتا۔

ایران کے پاس موجود اسپیڈ کشتیوں کو سمندر میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ خلیجی پانیوں میں امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی میں ایران سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی پوزیشن میں ہیں ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ سمندر میں پاسداران انقلاب کی ہونے والی مشقوں کے دوران زیادہ کوریج تیز رفتار کشتیوں، جنگی بحری جہازوں اور خشکی سے سمندر میں مار کرنے والے میزائلوں کی کرتے ہیں مگر امریکی اور برطانوی عسکری ادارے ایران کی سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت پر توجہ دیتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے پاس مختلف اقسام کی 6 ہزار سمندری بارودی سرنگیں موجود ہیں۔

ایران کے پاس تین آبدوزیں موجود ہیں۔ یہ تینوں روسی ساختہ 'کلاس کیلو' آبدوزیں ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پرانی ہونے کے باوجود یہ آبدوزیں خطرہ ہیں۔

"کلاس کیلو" کو یہ نام نیٹو کی طرف سے دیا گیا ہے۔ یہ آبدوز بجلی اور ڈیزل پر کام کرتی ہے۔ اس طرزکی آبدوزیں شمالی کوریا کے پاس بھی ہیں۔ انہی کی مدد سے آٹھ سال قبل شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کا بحری جنگی جہاز ڈبو دیا تھا۔ ایران کا دعویٰ ہے تہران یہ آبدوز مقامی سطح پر تیار کرتا ہے مگر اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔

ایران کے پاس بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت والے تین اقسام کے میزائل موجود ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جدید میزائل بھی تیارکیے ہیں مگر مغربی ذرائع کےمطابق ایران کے پاس چینی ساختہ تین اقسام کے'اینٹی شپ' میزائل ہی ہیں۔ مقامی سطح پر تیار کردہ میزائلوں کا کوئی وجود نہیں ملتا۔

ایران کے پاس چینی ساختہ بحری جہاز شکن میزائلوں میں "سلک وارم' میزائل کو ایرانی فوج کی مشقوں کے دوران بھی آزمایا گیا۔ چین ہی سے حاصل کردہ CSS-C نامی میزائل عراق جنگ کےدوران بھی استعمال کیا گیا۔ یہ میزائل 300 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

تاہم امریکا ایران کے پاس بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل C-801 اور C-802 کو آبی جہاز رانی کے لیےخطرہ قرار دیتا ہے۔ سنہ 2006ء میں اسی میزائل سے حزب اللہ اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔

اس میں کلام نہیں کہ ایرانی فضائیہ میں سنہ 1960ء اور 1970ء میں تیار کئے گئے طیارے شامل ہیں۔ ایران کی نیول فورس کے ہتھیار بھی برسوں پرانے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے لیے ان ہتھیاروں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو بند کرنا ممکن نہیں۔ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے کے لیے بعد امریکا کی جدید ترین فضائیہ اور نیول فورس کے ساتھ علاقائی اور عالمی اتحادیوں کی بھی مدد حاصل ہو گی۔

فوجی طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز بند کرنے سے عالمی منڈی کو تیل کی سپلائی کچھ وقت کے لیے معطل کی جا سکتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے بحرین، عراق، قطر، کویت اور دوسرے ممالک کوتیل کی سپلائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں