مکہ کی پہاڑی جس کی وجہ شہرت ’’رمضان توپ‘‘ بنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مکہ معظمہ میں ماہ صیام کی مناسبت سے ایک توپ برسوں سے روزہ داروں حتیٰ کہ زائرین اور معتمرین کی یادوں میں محفوظ چلی آ رہی ہے۔ یہ توپ مسجد حرام سے شمال کی سمت میں چند فرلانگ کے فاصلے پرآج بھی موجود ہے مگر گذشتہ چار برسوں سے خاموش ہے۔ چار سال قبل تک اہل مکہ اسی توپ سے داغے جانے والے گولے کی آواز سن کر رمضان المبارک میں اختتام سحر اور افطار کرتے تھے۔ رمضان المبارک اور عید الفطر کا چاند دکھائی دینے کے بعد بھی رویت ہلال کا اعلان اس توپ سے گولہ داغ کر کیا جاتا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق ماہ صیام، روزوں اور سحر وافطار کی یادگار یہ توپ 10×10 مربع میٹر چبوترے پر نصب ہے۔ رمضان توپ کو مکہ مکرمہ کے شمال میں جرول کالونی ایک چوٹی پر نصب کیا گیا۔ یہ کالونی مکہ معظمہ میں دوسری چوٹیوں کی نسبت زیادہ اونچی ہے۔ افطار یعنی اذان مغرب کے وقت اس توپ سے داغے جانے والے گولے کا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پہاڑی کا نام'جبل اخشبین' ہے مگر توپ کی وجہ سے اس کا نام 'جبل المدافع' یعنی توپ والی پہاڑی مشہور ہے۔

تاریخ مکہ مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فواز بن علی الدھاس نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رمضان توپ کی وجہ سے مسجد حرام کے قریب واقع اس پہاڑی کو اسی توپ کی نسبت سے جبل المدافع کہا جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں‌انہوں نے بتایا کہ یہ توپ 100 سال تک مکہ معظمہ میں ماہ صیام میں سحر وافطار کی ایک زندہ علامت رہی ہے۔ اہل مکہ ماہ صیام سے میں اسی توپ کے گولے سے روزہ بند کرتے اور اسی پر افطار کرتے۔

ڈاکٹر الدھاس کا کہنا ہے کہ ماضی کے اسلامی دور میں مکہ معظمہ کے پہاڑوں پر اذان کے لیے مینار بنائے گئے جہاں سے اذان کی صدا بلند ہوتی۔ جب مائیکرو فون ایجاد ہوا تو مسجد حرام کے میناروں سے اذان دی جانے لگی۔ تاہم اس کے باوجود توپ مکہ کے روزہ داروں کے لیے موجود رہی۔

مسجد حرام کے قریب پہاڑی پر نصب رمضان توپ سے بارود کا تیار کردہ گولہ داغا جاتا۔ گولہ نکلنے کے ساتھ ایک زور دار آواز کے ساتھ توپ کے دھانے سے دھواں نکلتا۔ ڈیڑھ کلو گرام گولے کی آواز ماہ صیام اور عید کی بشارت، سحری اورافطاری کے اوقات کا اعلان سمجھا جاتا۔ افطاری کے لیے ایک اور سحری کے وقت دو گولے داغے جاتے۔ ایک گولہ روزہ داروں کو بیدار کرنے اور دوسرا روزہ بند کرنے کے لیے اذان فجر سے 10 منٹ پہلے داغا جاتا۔ عید پر 7 گولے اور مسجد حرام میں عید کی نماز کے لیے 4 گولے داغے جاتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں