.

سعودی عرب میں ’کلاک ٹاور میوزیم‘ زائرین کے لیے کھول دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ المکرمہ میں کائنات کے اسرار و رموز کے حوالے سے خصوصی طور پر تیار کردہ عجائب گھر رواں ماہ کے آغاز سے زائرین کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

'کلاک ٹاور' میوزیم کے عنوان سے یہ میوزیم 1440ھ کے آغاز میں مکمل ہوا جس کے بعد اسے زائرین کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ میوزیم کائنات کے سربستہ روازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔ چار منزلہ عجائب گھر کی ایک منزل سورج اور اس کے ملحقہ اشیاء، دوسری چاند کے بارے میں مختص اور تیسری منزل 'وقت کی پیمائش' کےلیے مختص کی گئی ہے۔ عجائب گھر کی ایک گیلری میں مسجد حرام کے 'پینو رامک مناظر' پر مشتمل ہے جو میوزیم کی ایک اضافی خوبی ہے۔

'کلاک ٹاور' محمد بن سلمان بن عبدالعزیز فائونڈیشن کے زیر اہتمام تیار کیا گیا ہے جو مکہ مکرمہ میں ایک بلند مقام پر واقع ہے۔ میوزیم کو اس ترتیب کے ساتھ تیار کیا گیا ہے کہ ایک زائر مرحلہ وار کائنات کے رازوں سے آگاہ ہوتا جاتا ہے۔ اس کا سفر وقت کی پیمائش سے شروع ہوتا ہے جس کا آغاز کائنات سے ہوتا ہے۔ وہاں سے کہکشائوں کی سیر کے بعد آخر میں زائرین مکہ گھڑیال تک جا پہنچتے ہیں۔

سعودی کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق 'کلاک میوزیم' سعودی عرب میں خلائی سائنس اور اس کی گہرائیوں کے بارے میں آگاہی کا منفرد عجائب گھر ہے جس کا آغاز آج سے 90 سال قبل شاہ عبدالعزیز مرحوم کے دور میں ہوا مگر اور آج اس کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کیا۔

کائنات کی سب سے بڑی گھڑی

مکہ معظمہ میں کلاک ٹاور میوزیم پورے ماہ صیام میں کھلا رہے گا۔ عجائب گھر کامقصد وہاں پر آنے والے زائرین کو سورج اور چاند کی مدد سے وقت کی پیمائش کرتے ہوئے' نینو سیکنڈ' کے مطابق معیاری وقت کا تعین کرانا ہے۔ زائرین کو دنیا کی سب سے بڑی گھڑی کی مدد سے وقت کا مشاہدہ کرایا جاتا اور وقت کی باریکی کے حوالے سے جدید ترین تکنیکس کا استعمال کر کے اس کی میکنیکل تشریح کی جاتی ہے۔

دنیا کی اس منفرد گھڑی کی تیاری میں کئی عالمی کمپنیوں نے مل کر کام کیا اور اس پر مکہ مکرمہ کے معیاری وقت کے مطابق وقت مقررکیا۔ اس کے ذریعے ھجری سال کے چاند کا پتا چلانے، ذی الحج کے مہینے کے تعین کے ساتھ کئی دیگر امور بھی انجام دیے جاتےہیں۔