.

مکہ اسکاؤٹس رضاکار خدمت خلق کا استعارہ کیسے بنے؟ جانئے اس رپورٹ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طواف کعبہ، عمرہ کی ادائی اور مسجد میں نمازوں کی ادائی کے لیے آنے والے مسلمانوں کی خدمت پر مامور رضاکاروں میں ایک گروپ ' یوتھ 'اسکائوٹس' بھی شامل ہے۔ اسکائوٹس رضاکار مُعتمرین، روزہ داروں اور مسجد حرام کے نمازیوں کی مثالی خدمت انجام دینے میں‌ پیش پیش ہوتے ہیں۔

مسجد حرام میں رمضان کے حوالے سے سرگرمیوں میں نوجوان اسکائوٹس کو خصوصی طور پر مقرر کیا جاتا ہے۔ آج سے کئی سال قبل سعودی عرب میں معتمرین اور حجاج کی خدمات کے لیے اسکائوٹس آرگنائزیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ رمضان المبارک کے دوران جہاں یہ نوجوان اسکائوٹس نمازیوں، عمرہ کی سعادت کے لیے آنے والے اللہ کے مہمانوں اور روزہ داروں کی مدد اور خدمت کے ساتھ ساتھ حرم کے اطراف میں گھومنے والے کم سن بچوں کو بھی ڈیل کرتے ہیں۔

وہ بچے جو اپنے والدین سے الگ ہو جاتے ہیں اُنہیں ڈھونڈ کر مسجد حرام میں لاتے اور ان کے والدین حوالے کرتے ہیں۔ یہ رضا کار انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں اور بچوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھومتے ہیں۔

رمضان اسکائوٹس کے کیمپ کمانڈر عبدالرحمان بن عبداللہ ابو دجین نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکائوٹس کے ارکان کو طویل تربیت کے عمل سے گذارا جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔ خاص طور پر انہیں بچوں کے ساتھ بات چیت کی تربیت دی جاتی ہے۔ انہیں بچوں‌ کے والدین کے ساتھ رابطہ کرنے، انہیں تلاش کرنے، انہیں مطمئن کرنے کے ساتھ ساتھ والدین یا دیگر اقارب تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔

گم ہونے والے بچوں کو اسکائوٹس رضاکار ان کے والدین تک کیسے پہنچاتے ہیں؟ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ابو دجین نے کہا کہ مسجد کے اطراف یا حرم میں کسی دوسری جگہ سے ملنے والے بچے کو محفوظ مقام پر پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کے والدین کی تلاش شروع کی جاتی ہے۔

محفوظ مقامات میں گم ہونے والے بچوں کے لیے قائم کردہ جنرل سیکیورٹی ڈاریکٹوریٹ میں لے جایا جاتا ہے۔ یہ مرکز حرم کے احاطے سے باہر ہے۔ بعض اوقات حرم کےاطراف سے ملنے والا بچہ یا بچے فورا ہی اپنے والدین سے نہیں مل پاتے بلکہ انہیں کچھ انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ماہ صیام کے اسکائوٹس کیمپ پروگرام کے رضاکاروں کی طرف سے سیکیورٹی اداروں کو تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کےعلاوہ رضاکار حرم مکی کے سیکیورٹی ادارے، وزارت تجارت وسرمایہ کاری، مذہبی امور و اوقاف، دعوت وارشاد اور وزارت صحت کے حکام کی معاونت کی جاتی ہے۔

اسکائوٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سماجی ترقی کی سروسز کے سربراہ ڈاکٹر غانم بن سعد الغانم نے کہا کہ ان کے ساتھ 400 اسکائوٹس کام کرتے ہیں۔ پہلے گروپ کی ڈیوٹی رمضان کی پہلی رات سے نصف ماہ تک، دوسرے کی، دوسرے کی نصف ماہ سے ماہ مبارک کے آخر تک دن اور رات کے اوقات میں لگائی جاتی ہے۔

اسکائوٹس کیمپ کی اہمیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں الغانم نے کہا کہ کیمپ میں شامل رضاکار حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں جو سعودی عرب میں نوجوانوں کی رضاکارانہ سرگرمیوں‌ کے حوالے سے عالمی سطح پر خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں۔

انہو‌ں‌ نے مزید کہا کہ اسکائوٹس رضاکاروں کے کام کی بنیادی نوعیت حرم کی سیکیورٹی اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اس دوران اسکائوٹس رضا کار مختلف ٹولیوں کی شکل میں حرم کے اطراف میں معتمرین، زائرین اور روزہ داروں کی مدد کرتے ہیں۔ انہیں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران وزارت تجارت وسرمایہ کاری کی طرف سے پرائس کنٹرول کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

وہ دکانوں پر مختلف اشیاء کی قیمتوں کے نرخوں کی فہرست کی چھان بین کرتے اور دکان داروں میں نرخ لسٹیں تقسیم کرنے میں بھی مدد کرتےہیں۔ وزارت مذہبی امور کے حکام کے ساتھ مل کر اسکائوٹس معتمرین اور روزہ داروں میں کتابیں تقسیم کرتے اور وزارت صحت کے ساتھ مل کر حرم میں موجود نمازیوں، روزہ داروں اور معتمرین کی طبی مدد ضرورت میں ان کے ساتھ تعاون کرتے نظر آتے ہیں۔