.

'المفالت' پکوان جس کےبغیر سحری کا دستر خوان نامکمل ہے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہ صیام کے آتےہی ماہ مبارک کی مناسبت سے عرب ملکوں میں کیہ خصوصی پکوان تیار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ انہی رمضانی پکوانوں میں سعودی عرب میں مقامی سطح پر تیار ہونے والے'المفالت' کو سحری کا لازمی حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ پکوان اہل جازان کی خاص پہچان ہے اور جازان میں رہنے والوں کے دسترخوان پر سحری کےوقت اور کچھ ہو نا ہو مگر 'المفالت' ضرور ہوگا۔ جازان کے مردو خواتین باقاعدگی کے ساتھ پورے ماہ صیام میں 'المفالت' تیار کرتے اور سحری کےکھانوں کے ساتھ تناول کرتے ہیں۔

'المفالت' برسوں سے ایک روایت کے طورپر چلا آ رہاپکوان ہے جس کی تیاری میں نوجوانوں سے زیادہ بڑےبوڑھے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ گھر میں مہمان ہوں یا نہ ہوں مگر یہ سحری کے کھانوں میں ضرور شامل ہوتا ہے۔ یہ پکوان غذائیت سے بھرپور غذا ہے جسے دودھ، سفید آٹے، جوار باجرہ یا گندم کے عام آٹے سے تیار کیاجاتا ہے۔ اس کی تیاری میں شہد یا دیسی شکر لازمی شامل کی جاتی ہے۔ دودھ اور شہدسے تیار کردہ یہ پکوان روزہ داروں کو دن بھر کی بھوک کے احساس سے بچاتا ہے۔

المفالت دو طرح سے تیار کیاجاتا ہے۔ ایک قسم گندم کے باریک آٹے سے اور دوسری باجرہ سے بنائی جاتی ہے۔ دونوں میں گائے کا تازہ دودھ، مکھن، شکریا شہد شامل کیا جاتا ہے۔ ان تمام اشیاءکو ملا کر اس کا پیسٹ بنایاجاتا ہے۔اس کے بعد اسے کچھ دیر ہلکی آنچ پرپکایا جاتا ہے۔ تیار ہونے کے بعد ٹھنڈہ کرکے کھایا جاتا ہے۔

المفالت کی دوسری قسم ترش کا کھٹے آٹےیا باجرہ کے آٹے سے تیارکی جاتی ہے۔ اس میں دہی، دیسی مکھن شامل کیا جاتا ہے۔ پکانی کا طریقہ وہی ہے جس طرح دوسری قسم کا المفالت بنایا جاتا ہے۔ لوگوں میں دونوں پسند کیےجاتےہیں مگر دوسری قسم کے المفالت کو ماہ صیام کے موقع پر زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔