.

امریکا، ایران کے کن کن میزائلوں کو سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور دونوں‌ ملکوں کے عہدیداروں کے ایک دوسرے کے خلاف تند وتیز بیانات کے جُلو میں ایران کے ایسے جنگی ہتھیار بالخصوص میزائل بھی زیر بحث ہیں جنہیں امریکا سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور اور انسانی حقوق محمد صالح جوکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس 2000 کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی ملکوں میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں پر امریکی فوج اڈوں کو اور امریکی بحری بیڑے کو آسانی کے ساتھ نشانہ نہ بنایا جا سکے۔

جوکار نے ان خیالات کا اظہار ایران کے شہر یزد میں ایک تقریب سےخطاب میں کیا۔ ان کے بیان سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ کشیدگی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان معاملات جنگ تک نہیں جائیں گے۔

آٹھ مئی 2018ء کو امریکا کے ایران کےساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے سےعلاحدگی کے بعد امریکا نے ایران پر پابندیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ دو مئی 2019ء کو امریکا نے ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں سپلائی مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی تیل پر مکمل پابندی عاید کردی۔ امریکا نے ایران کے ساتھ بات چیت کی بحالی کے لیے 12 شرائط پیش کیں۔ ان شرائط میں ایران کے میزائل پروگرام پرپابندی کی شرط بھی شامل ہے۔

ایران میزائل کیوں اپ گریڈ کررہا ہے؟

ایران میں ولایت فقیہ کے مذہبی نظام سے قبل شاہ ایران کے دور میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات اچھے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے امریکا سے جدید ہتھیار بھی حاصل کیے۔ ایران نے امریکا سے اس وقت کے جدید ترین جنگی طیارے" F-14 Tomcat " خریدے۔ اس کے بعد "F-4 Phantom II "، "نور تھروپ F5" اور لڑاکا ہیلی کاپٹر "AH-1J Super Cobra" ایران حاصل کر چکا تھا۔

مگرعراق۔ایران جنگ کے دوران ایران نے ان میں سے بیشتر جنگی طیارے کھود دیئے۔ ایران کے اس جنگ میں بچ جانے والے طیارے ازکار رفتہ ہو گئے۔ انہیں اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے مقامی سطح پر تیار کردہ طیاروں کی تیسری جنریشن، جو اس نے سنہ 1960 اور 70 میں تیارکیے تھے، کو اپ گریڈ کیا۔ بعد ازاں ان طیاروں کو مزید اپ گریڈ کرکے چوتھی جنریشن کا درجہ دے دیا۔

سنہ 1980ء سے 1988ء کے دوران عراق۔ایران جنگ کے اختتام پر ایران نے اپنے ہاں میزائلوں‌ کی تیاری شروع کر دی۔ ایران کو میزائل ٹکنالوجی کی تیاری میں شمالی کوریا اور چین نے مدد فراہم کی۔ ایران اپنے میزائل اہداف سے تجاوز کر گیا۔ اس نے جوہری وار وار ہیڈ لے جانے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنا شروع کر دیئے۔ ایران نے نہ صرف خود یہ جنگی میزائل استعمال کرنا شروع کر دیے بلکہ خطے میں موجود اپنے حامی گروپوں فلسطین کی اسلامی جہاد، حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں کو فراہم کیے جو ایران کے ایجنٹ کے طور پر خطے میں لڑائیوں میں شریک ہیں۔

سنہ 2018ء کو ایران کے ایک عسکری عہدیدار نے کہا کہ ایران نے مشرقی شام میں پانچ میزائل داغے۔ ان میں سے دو میزائل داغے جانے کے چند سیکنڈز کے اندر ہی تباہ ہو گئے۔ ایرانی سماجی کارکنوں نے بھی تصدیق کی کہ کرمان شاہ سے مشرقی شام کی طرف متعدد میزائل داغے گئے تھے۔

گذشتہ برس اکتوبر میں ایران نے دعویٰ کیا کہ جنوب مغربی شہر اھواز میں 22 ستمبر کو ہونے والی نمائش کے موقع پر پیش کیے گئے میزائل کو شام میں استعمال کیا گیا ہے۔

سجیل میزائل

ایران کے پاس مقامی ساختہ میزائلوں میں زمین سے زمین پر مار کرنے والا 'سجیل' طاقت ور میزائل سمجھا جاتا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ میزائل مقامی ٹکنالوجی سے تیار کیا ہے۔ تاہم بعض مبصرین کاکہنا ہے کہ ایران نے اس میزائل کی تیاری میں بعض دوسرے ممالک سے بھی مدد حاصل کی ہے۔

بیلسٹک خصوصیات کے حامل اس میزائل کے مار کرنے کی صلاحیت 2000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ اس میزائل کو موبائل لانچنگ پیڈ سے داغا جا سکتا ہے۔ ایران نے سجیل 1 کے بعد سجیل 2 میزائل بھی تیار کر رکھے ہیں۔

خلیج فارس میزائل

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس آواز کی رفتار سے تیز میزائل موجود ہیں۔ انہیں بحری جہازوں اور زمین سے بھی داغا جا سکتا ہے۔ ایران ان میزائلوں کو اسمارٹ میزائلوں کے گروپ میں شامل کرتا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار محمد صالح جوکار نے بھی اس میزائل کے بارے میں معلومات دی ہیں۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ خلیج فارس میزائل 300 کلومیٹر تک مارکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے وار ہیڈ کا کا وزن 650 میزائل کلو گرام ہے۔ مستقبل قریب میں ایران اس میزائل کو طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کے مطابق تیار کر رہا ہے۔

شہاب میزائل

ایران کے مشہور میزائلوں میں ایک شہاب کے نام سےجانا جاتا ہے۔ یہ میزائل کئی سیریز میں ہے جو ایک سے 6 تک تیار کیا جا چکا ہے۔ یہ میزائل روس کے 'ایس ایس 1' یا' اسکڈ' میزائل کی نقل ہے۔ سنہ1980ء کےعشرے میں عراق نے'الحسین' اور العباس کے نام سے اسی طرح کے میزائل تیار کیے۔ ایران نے لیبیا سے اس میزائل کی ٹکنالوجی حاصل کی اور اس کی تیاری میں شمالی کوریا سے مدد لی گئی۔

ایران کے پاس 'شہاب 3' درمیانے فاصلے تک مارکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ہدف کو نشانہ بنانے کی رینج 1300 کلومیٹر ہے۔"شہاب 3 اے' کی مار کرنے کی صلاحیت 2000 کلومیٹر، 'شہاب 3 سی' 2200 سے 3000 کلومیٹر اور شہاب 4 میزائل 3000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے 'کاشغر1' میزائل سے مصنوعی سیارہ زمین کے مدار میں‌ بھیجنے کی کوشش کی تھی مگر ایران اس میں کامیاب نہیں‌ ہو سکا۔

شہاب سیریز کے میزائلوں میں'شہاب 5' کے بارے میں مغربی اور اسرائیلی ذرائع سے خبریں آتی رہی ہیں جو ایران کے پاس سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے سنہ 1998ء کو دعویٰ‌ کیا تھا کہ ایران'شہاب 4' کو اپ گریڈ کرکے شہاب 5 اور شہاب 6 میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ میزائل 10 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے وار ہیڈ کا وزن 1000 سے 1500 کلو گرام تک ہے۔ اس کی تیاری میں روس اور شمالی کوریا نے ایران کی مدد کی۔ شہاب '6' شمالی کوریا کے 'ٹائپوڈونگ 2' یا 'این کے ایس ایل ایکس' کی نقل قرار دیا جاتا ہے۔

'فاتح 110'

ایران کے بیلسٹک میزائلوں میں 'فاتح 110' کو اہمیت حاصل ہے۔ اس میزائل کی بھی ایران کے پاس متعدد سیریز ہیں۔ 'فاتح 110 اے' زمین سے زمین پر مار کرتے ہوئے 250 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ 'فاتح 110 بی' کی رینج 300،'فاتح 110 سی' کی 300، 'فاتح 110 ڈی' زمین سے زمین اور سمندر سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے جو 300 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ 'فاتح 313' کی رینج 500 کلومیٹر، ذوالفقار' کی 700، 'ہرمز 1' راڈار شکن کی 300، ہرمز 2 رڈار اور فاتح مبین کو زمین سے زمین اور زمین سے سمندر میں داغا جا سکتا ہے۔

'قدر 110' یورپ کے لیے خطرہ

ایران کے پاس موجود 'قدر' 110' میزائل کے مار کرنے کی صلاحیت 2500 کلومیٹر سے3000 کلومیٹر تک ہے۔ دنیا کے انتہائی تیز رفتار میزایلوں میں سے ایک میزائل 'قدر 110' بھی ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل ہرقسم کے اینٹی میزائل سسٹم اور راڈار کو دھوکا دینے اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میزائل کی رینج یورپی ملکوں تک ہے اور 70 فیصد اہداف یورپی ملکوں میں ہو سکتے ہیں۔

'قدر 110' دراصل' شہاب 3' کی نئی شکل ہے۔ یہ میزائل سنہ 2005ء میں تیار کیاگ یا۔ اس کی تین طرح سے درجہ بندی کی گئی ہے۔ قدر، قدر 100 اور قدر 110 اے کے نام سے مشہور یہ میزائل چین کے "M-18 " کی کاپی ہے۔ چین کے اس میزائل کی نقل پاکستان کے پاس 'شاہین' کے نام سے موجود میزائل ہے۔

'خرمشھر' میزائل

خرم شھر ایران کے جنوب مغربی صوبے الاھواز کے 'المحمرہ' شہر کا فارسی نام ہے۔ اسی نام سے ایران نے 'بیلسٹک میزائل تیار کیا جو زمین سے زمین پرمار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی لمبائی 15 میٹر اور قطر ڈیڑھ میٹر ہے۔ یہ میزائل 1800 کلو گرام وزنی وار ہیڈ کے ساتھ 2000 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔