.

روزانہ 2 گھنٹے اسکرینوں کے سامنے گزارنے سے بچوں پر کیا اثر ہو گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا میں ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گود کی عمر کے جو بچے روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ وقت ٹیلی وژن، اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ کمپیوٹر کی اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں ،،، وہ اسکول میں اپنے دیگر ہم جماعتوں کے مقابلے میں برتاؤ اور توجہ کے مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں محققین نے 4200 سے زیادہ کینیڈین بچوں کے والدین کو سروے میں شامل کیا تا کہ تین اور پانچ سال کی عمر میں اسکرین کے استعمال کے لیے مختص وقت کا جائزہ لیا جا سکے۔ محققین نے والدین سے ان بچوں میں برتاؤ اور نیند کے مسائل سے متعلق مشکلات کے بارے میں بھی سوالات کیے۔

تحقیق کے نتائج میں دیکھا گیا کہ پانچ برس کی عمر کے 1.2 فی صد بچوں میں برتاؤ کے مسائل مثلا جارحانہ رجحان اور توجہ کی کمی سامنے آئی۔ اسی عمر کے 2.5 فی صد بچوں میں ڈپریشن اور تشویش کے مسائل دیکھے گئے۔

تاہم محققین کے سامنے یہ بات آئی کہ جن بچوں نے روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ وقت اسکرینوں کے سامنے گزارا انہیں توجہ کے مسائل کا اُن بچوں کے مقابلے میں چھ سے آٹھ گنا زیادہ سامنا رہا جنہوں نے اسکرینوں کے سامنے نصف گھنٹہ گزارا تھا۔

کینیڈا میں ماہرین ہدایت دیتے ہیں کہ دو سے چار برس کے بچوں کو روزانہ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت اسکرینوں کے سامنے بیٹھنے دیا جائے اور اس سے بڑی عمر کے بچوں کے لیے مختص وقت دو گھنٹے سے کم ہونا چاہیے۔