.

سوڈان میں برطانیہ کے سفیر بنے افطار پر روزہ داروں کے امام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں آنے والی تبدیلی کے دوران امریکا اور برطانیہ سمیت خرطوم میں تعینات تقریباً تمام ہی غیر ملکی سفراء غیر معمولی حد تک متحرک نظر آ رہے ہیں۔

اسی اثناء میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں خرطوم میں تعینات برطانوی سفیرعرفان صدیق کو ماہ صیام کے دوران افطار پارٹی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عرفان صدیق نے روزہ داروں کو نہ صرف اپنی رہائش گاہ پر افطاری کے لیے مدعو کیا بلکہ افطار کے بعد نماز مغرب کی امامت بھی کی۔

سوڈان میں ایک غیر مسلم ملک کے سفیر کا روزہ داروں کے درمیان افطاری کرنا اور ان کی نماز کی امامت کے ساتھ مقامی اشیائے خور ونوش کو رغبت کھانا اور پینا منفرد احساس دلاتا ہے۔

عرفان صدیق ایک ایسے وقت میں سوڈان کے سفیر ہیں جب چند ہفتے قبل اس افریقی ملک میں کئی سال سے برسراقتدار رہنے والےعمر البشیر کا تختہ الٹ دیا گیا۔ عرفان صدیق سوڈان میں برطانیہ کے پہلے مسلمان سفیر ہیں۔

ٹویٹر پر برطانوی سفارت خانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہ صیام کے دوران راہ گیروں اور مسافروں کو اپنے گھر پر دعوت افطار میں شریک کروا کر برطانوی سفیر نے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔

عرفان صدیق سوڈان میں حالیہ انقلاب کے بعد دارالحکومت خرطوم میں دھرنا دینے والے شہریوں‌ کے ساتھ اظہار یکجہتی کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل تک جرمنی کے اسلام آباد میں سفیر بھی عوامی حلقوں میں خاصے مقبول رہے ہیں۔