.

50ویں سالگرہ کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کا #مکہ_سمٹ یادگار اکٹھ ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر مکہ معظمہ میں 14واں اسلامی سربراہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب اسلامی تعاون تنظیم 'او آئی سی' اپنی تاسیس کے 50 سال مکمل کرنے جا رہی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق 'او آئی سی' کا قیام 25 ستمبر 1969ء کو اسلامی کانفرنس کے نام سے عمل میں لایا گیا تھا۔ سنہ 2011ء میں آستانہ میں ہونے والے وزراء خارجہ اجلاس میں اس کا نام اور انسگنیا تبدیل کیا گیا۔

''ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مستقبل کی طرف سفر" کا سلوگن اختیار کرنے والی تنظیم نے آغاز میں اسلامی یکجہتی اور مشترکہ کوششوں کو نعرے کے طور پر اپنایا۔ اقوام متحدہ کے بعد 'او آئی سی' دنیا کی دوسری بڑی تنظیم ہے۔ اس کے مستقل رکن ممالک کی تعداد 57 ہے جو چار براعظموں پر پھیلے ہوئے ہیں۔

او آئی سی میں تین بڑے بلاک اپنے اپنے خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ ایشیائی بلاک، عرب بلاک اور افریقی بلاک کہلاتے ہیں۔ مجموعی طور پر او آئی سی دنیا بھر میں مسلم امہ کی ترجمان اور نمائندہ تنظیم ہے جوعالمی برادری کے ساتھ مل کر بین الاقوامی اصولوں کے تحت عالم اسلام اور غیر مسلم دنیا کے درمیان رابطوں کے فروغ اور مسلمان ممالک کے حل طلب مسائل کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کا قیام مسجد اقصیٰ کو لگائی جانے والی آگ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر بھرپور ردعمل دینے کے لیے امت کی مشترکہ آواز کے طور پر قمری تاریخ 12 رجب 1398ھ کو مراکش کے دارالحکومت رباط اس کی تاسیس کی گئی۔

سنہ 1970ء کو سعودی عرب کی میزبانی میں او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس جدہ میں ہوا۔ اس اجلاس میں جدہ ہی میں 'او آئی سی' کا صدر دفتر قائم کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔ او آئی سی کا سربراہ جنرل سیکرٹری کہلاتا ہے اور اس وقت اس منصب پر ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین فائزہیں جو نومبر 2016ء سے 'او آئی سی' کے سربراہ ہیں۔

او آئی سی کا تیسرا وزراء خارجہ سطح کا اجلاس سنہ 1972ء کو ہوا جس میں تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک نیا میثاق وضع کیا گیا۔ اس وقت اس کے رکن ممالک کی تعداد 30 تھی اور اب چار عشروں بعد یہ تنظیم 57 مسلمان ملکوں پرمشتمل ہے۔

گیارہویں اسلامی سربراہی کانفرنس سنہ 2008ء کو سینیگال کے شہر ڈاکار میں ہوئی جس میں اکیسویں صدی کے نئے چیلنجز کے مطابق تنظیم کے مستقبل کے لیے کا نیا پروگرام تشکیل دیا گیا۔

دسمبر 2005ء کومکہ معظمہ میں اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ سنہ 2015ء کے اجلاس میں تنظیم کے آئندہ ایک عشرے کے پروگرام 2016ء تا 2025ء کا لائحہ عمل جاری کیا گیا۔ نئے پروگرام میں 18 مختلف شعبوں اور107 ترجیحی اہداف کا تعین کیا گیا۔

ان اہداف میں عالم امن وسلامتی، فلسطین، القدس شریف، غربت میں کمی، انسداد دہشت گردی، سرمایہ کاری، غذائی تحفظ، سائنس و ٹکنالوجی، موسمی تبدیلی، دیرپا ترقی، مذاہب کے درمیان اعتدال پسندانہ طرز فکر کا فروغ، خواتین کو بااختیار بنانا، خوشحالی، انسانی فلاح کے لئے مشترکہ اسلامی کوشش، انسانی حقوق اور گڈ گورننس جیسے اہداف تھے۔