.

اسرائیلی میڈیا نے قطر اور امریکی یہودیوں کے باہمی روابط کا بھانڈہ پھوڑ دیا

قطر، امریکی یہودیوں‌ کو اپنے مفادات میں کیسے استعمال کرتا تھا، جانئے اس رپورٹ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ امر حیران کن ہے کہ قطر ایک طرف اسرائیل مخالف حماس، اخوان اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کی مدد کر رہا ہے اور دوسری طرف دوحا نے امریکا کے یہودیوں کو بھی اپنے مفادات کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔

اسرائیل کی 'نیشنل نیوز' نامی ایک ویب سایٹ پر قطر اور امریکی یہودیوں کے درمیان باہمی تعاون وتعلقات پر مبنی مفصل رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں قطر کے دو الگ الگ چہروں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ رپورٹ میں‌ بتایا گیا ہے کہ امریکا میں یہودی لیڈر کس طرح قطر کے ایجنڈے پر کام کرتے رہے ہیں، تاہم جب ان پر حقیقت آشکار ہوئی تو وہ قطر سے دور ہو گئے۔ یہاں‌ تک کہ بعض نے اعلانیہ کہا کہ وہ دوحا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ دوحا کے لیے کام کرنے والے یہودیوں کے اسکینڈلز سامنے آنے کے بعد انہیں دوحا سے دور ہونا پڑا۔

قطر اور امریکا کے یہودیوں کے درمیان تعلقات کے بارے میں امریکی جامعات کے زیراہتمام علمی مراکز میں‌ بھی اس موضوع پر تحقیق کی جاتی رہی ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ قطر نے امریکا میں غیر تدریسی مراکز قائم کئے جو امریکا میں قطری لابی دوحا مخالف گروپ کے خلاف پروپیگنڈا مشین کے طور پر کام کرتے ہے ہیں۔

نیشنل نیوز کی رپورٹ‌ میں‌ بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں فلسطین کے علاقے غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی کیفیت پیدا ہوئی اور اسرائیل نے اپنی بری فوج کو بھی غزہ کی طرف متحرک کر دیا تاہم قطر کی مداخلت سے فلسطینی مزاحمتی گروپ اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ یہ عارضی جنگ بندی ابھی تک قائم ہے تاہم اس کے ختم ہونے کے خدشات بھی لگتے رہتے ہیں۔ 'دشمنامہ سرگرمیوں' کی روک تھام کے لیے قطر نے مذاکرات میں اہم کردارا ادا کیا۔ قطر کی طرف سے یہ مداخلت ایک ایسے وقت میں کی گئی جب دوحا پر حماس کو فنڈز فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انتہا پسند تنظیم 'حماس' اور قطر کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے جاری ہیں۔ قطر اور خوان المسلمون کے درمیان گہرے مراسم ہیں۔ حماس کی تاسیس کے موقع پر جاری دستاویز میں کہا گیا تھا کہ یہ جماعت فلسطین میں اخوان المسلمون کی ایک شاخ تصور کی جائے گی۔ دوسری جانب اخوانب المسلمون نے بھی حماس کو اپنے ذیلی گروپ کے طور پر طویل عرصے تک متعارف کرایا۔ امریکا میں دہشت گردی کی فنڈنگ کے سب سے بڑے مقدمہ 'ہولی لینڈ فائونڈیشن' کے خلاف ہونے والی تحقیقات کے دوران امریکا میں موجود اخوان المسلمون کے ارکان پر انتہا پسند تنظیم کے لیے فنڈز جمع کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔

جب سے امریکی حکومت نے ہولی لینڈ فائونڈیشن پر ٹیکساس میں‌ پابندی عاید کی اسی وقت سے قطر نے اس کے مالی امور میں مدد کی ذمہ داری اٹھالی تھی۔ اس کے ذریعے جمع ہونے والی رقم حماس تک پہنچائی جاتی۔ اس طرح حماس قطری پیسے سے غزہ کے عوام کو بلیک میل کرتی اور سروسز کی آڑ میں اپنے حق میں‌ پروپیگنڈے کرنے کے ساتھ غزہ میں اپنے اقتدار کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر بنانے کےلیے سرگرم رہی ہے۔ یہاں تک کہ حماس نے اپنی اتھارٹی کے قیام کے لیے مخالفین کو قتل سے بھی گریز نہیں‌ کیا۔

قطر کی طرف سے نہ صرف حماس کی براہ راست مالی مدد کی جاتی رہی ہے بلکہ قطر نے خلیجی ممالک میں اخوان المسلمون کا وسیع رابطہ نیٹ ورک بھی قائم کیا۔ قطر کی طرف سے اخوان کے حامی ذرائع ابلاغ کو منظم اور متحدہ کیا گیا اور دنیا بھر کی مؤثر شخصیات اور تنظیموں کے درمیام رابطہ کاری کا موقع فراہم کیا گیا۔

قطر کی شدت پسند تنظیموں کی مالی مدد

دوحا پر اس کے پڑوسی ملکوں کی طرف سے الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ حماس اور اخوان المسلمون جیسی تنظیموں کے نظریات رکھنے والے انتہا پسند گروپوں‌ کی مالی مدد کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ گذشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں‌ سابق صدر جمال عبدالناصر نے اخوان المسلمون پر پابندی عاید کی اور جماعت کا نیٹ ورک توڑںے کے لیے اس کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ ان پابندیوں‌ کے نتیجے میں مصر میں موجود اخوان کے حامی اور مبلغ عناصر کو مشرق وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکی ملکوں میں پناہ لینا پڑی۔

قطر اس وقت سے ہی اخوان المسلمون کی میزبانی کر رہا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ یہ ثابت ہو گیا کہ قطر اخوان المسلمون کا نظریاتی گڑھ ہے کیونکہ یہاں‌ کہ حکومت نے اخوان اور اس کے حامیوں کی دل کھول کر مدد کی۔ انہیں ریاست میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچایا اور ملک میں اخوانی نیٹ ورک کے فروغ کے لیے تنظیمیں قائم کرنے کی غیر مشروط اجازت دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں انتہا پسند مذہبی مبلغین کی مدد کی گئی۔

اس طرح قطر نے خلیجی ممالک کو سیاسی اسلام میں تبدیل کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ اس وقت بھی قطر اخوان اور اس کے حامی گروپوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔ سنہ 1996ء میں قطر کے الجزیرہ ٹی وی چینل کے قیام کے بعد اخوان نے اس چینل کے پروگرامات کو اپنے نظریات اور افکار کے فروغ کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔

اخوان المسلمون کی معاونت کی قطری مہم جوئی نے خطے اور امریکا کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالا۔ پڑوسی ملکوں‌ بالخصوص سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کی سلامتی کو دائو پر لگانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ دوحا نے القاعدہ اور طالبان جیسے گروپوں کو مالی اور سفارتی کاری کے میدان میں اپنی خدمات مہیا کیں۔

اسرائیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد دوحہ کے لیے کام کرنے والی یہودی لابی کو بھی مشکل کاسامنا کرنا پڑا۔ امریکا میں اختیارات رکھنے والی یہودیوں نے پریشر گروپ کے طور پر دوحا پر دبائو بڑھایا کیونکہ قطر کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کی پیشہ وارانہ زندگی اور شہرت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔

قطری میڈیا

'انفارمیشن وار' کی مصنوعات میں گمراہ کن معلومات بھی شامل ہوتی ہیں جو ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی پھیلائی جاتی ہیں۔ سو اس میدان میں‌ بھی قطر نے اپنے ذرائع ابلاغ کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ کتابوں، مضامین، ٹی وی چینلوں‌ پر انٹرویوز، سوشل میڈیا کے استعمال اور دیگر ذرائع سے قطر نے شدت پسند گروپوں کی حمایت میں پروپیگنڈا جاری رکھا۔

قطر میں 38 ٹی وی چینل، 36 اسپورٹس چینل نشریات پیش کرتے ہیں جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے ممالک میں سرگرم ہیں۔ اس طرح 'سی این این' پر دکھائے جانے والے ایک پروگرام کے اخرجات قطری ایئرلائن ادا کرتی ہے۔ رپورٹ‌ کے مطابق قطری ٹی وی چینل کے الجزیرہ کے ہفتہ وار ناظرین کی تعداد 3 کروڑ‌50 لاکھ ہے۔ 'الشریعہ والحیات' پروگرام کو سب سےزیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اس پروگرام کا اسکرپٹ اخوان المسلمون کے مبلغ علامہ یوسف القرضاوی تیار کرتے ہیں۔

قطر کے دیگر مؤثر ذرائع

قطر نہ صرف مختلف انتہا پسند نیٹ‌ ورکس کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ ان کی مدد سے مخالفین کے بارے میں معلومات کے حصول میں بھی پیش پیش ہے۔ کسی قطری ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی رپورٹ یا خبر کو دوحا کے مخصوص نظریات بیانیے میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس پر ماہرین کی آراء کے ذریعے مزید رنگ آمیزی کی جاتی ہے اور اسے قطری پروپگینڈے کے حمایت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان تمام عناصر ترکیبی کا مقصد قطر کی حمایت میں ایسا پروپیگنڈا کرنا ہے جس سے سب مستفید ہو سکیں۔

اس طرح کے متاثر کن ذرائع ابلاغ بنانے اور ان کے بنیادی ڈھانچے کے لیے قطر بحیثیت ملک پانی کی طرح پیسہ بہاتا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے ایک تفصیلی مضمون شائع کیا۔ مضمون نگار ناتھن تھرال نے لکھا کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے مالی معاونت کاروں نے کئی دفعہ اسرائیل کی عمومی تائید کے لیے دھوکا دیا۔ جب کہ دوسری طرف ڈیموکریٹک کی قیادت یہودی ریاست پر سخت برہم ہوتی رہی۔ امریکی مضمون نگار نے ان لوگوں‌ کے نام ظاہر نہیں‌ کیے جو مخالف ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے اپنے پیسے کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں بین الاقوامی کرائسز گروپ یعنی 'ICG' کو قطر کی طرف سے خطیر رقم ملتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسے امریکا میں مقیم کئی دوسرے ڈونرز کی طرف سے بھی معاونت حاصل رہی۔

امریکی اخبار کے مطابق 'ICG' کو انتہا پسند تنظیموں کا معاون تصور کیا جاتا ہے۔ یہ قطری پیسے سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے ایجنڈے پر کام کرتا ہے۔ قطر فائونڈیشن دوحہ میں قائم 'بروکنگز سینٹر کی شاخ ہے اور اس کا شمار دنیا کے پہلے تھینک ٹینک میں ہوتا ہے۔

انتہا پسندانہ نظریات کےفروغ کے باعث مسلسل تنقید کے باوجود قطر فائونڈیشن الجزیرہ کی طرح قطری حکومت کا قوت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ تنظیم اس لیے بھی تیزی کےساتھ ترقی کر رہی ہے کیونکہ اس میں حکمران خاندان کے لوگ شامل ہیں جو صرف قطر کے مخصوص سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

قطر نے دوحا میں چھ امریکی جامعات کی شاخیں قائم کر رکھی ہیں اور ان میں‌ ہونے والی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں‌ کے لیے پیسہ قطر فائونڈیشن کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے۔ ان میں امریکا کی کارنیل یونیورسٹی، ٹیکساس کی اے اینڈ ایم، جامعہ کانیگی میلن، ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی، جارج ٹائون یونیورسٹی اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی شامل ہیں۔