.

تہران کے سابق میئر کا اپنی بیوی کے قتل کا حیران کن اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران کے سابق میئر محمد علی نجفی نے اپنی دوسری اہلیہ کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ بیوی کے قتل کے اعترافی بیان ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر دکھائے گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق علی نجفی نے تفتیشی حکام کے سامنے انتہائی اطمینان کے ساتھ موقف بیان کرتے ہوئے اپنی بیوی کے قتل کا اعتراف کیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ علی نجفی کا تفتیشی افسران کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر مسٹر نجفی کا کہنا تھا کہ ان کا بیوی کو جان کو مارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی ویژن چینل 'IRIB' پر علی نجفی کی عدالت میں پیشی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے پولیس اسٹیشن میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہیں پولیس افسران نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

خبر رساں ادارے 'برنا' کے مطابق علی نجفی کو بدھ کے روز پراسیکیوٹر جنرل کے سامنے پیش کیا گیا۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں‌ نے علی نجفی کی اہلیہ پر اپنے شوہر کے خلاف لوگوں کو اکسانے کا الزام عاید ہے۔

تفتیشی حکام کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے علی نجفی نے کہا کہ ایک سیکیورٹی ادارے نے میری فول کال کی ریکارڈنگ میری اہلیہ کو دی۔ اس نے میرے خلاف بے مقصد دعویٰ دائر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوی کو قتل کرنے کا میرا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

انہوں‌ نے بیوی کی کی طرف سے ان کے ساتھ خیانت کی افواہوں کو بھی رد کردیا اور کہا کہ اور کہا کہ اس نے متعدد بار اسے دھمکیاں دی تھیں مگر اس کا کردار صاف تھا۔

ایک سوال کے جواب میں علی نجفی نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ میری دوسری اہلیہ میترا استاد کے تعلقات ہی ہمارے درمیان اختلافات کا باعث بنے۔ اختلافات بڑھ جانے کے بعد میں‌ نے اسے بار بار کہا کہ ہمیں الگ ہوجانا چاہیے مگر اس نے علاحدگی کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

خیال رہے کہ تہران کے سابق میئر محمد علی نجفی تہران میں پلاٹوں پرقبضے کے الزامات کا سامنا کرنے کے بعد میئر کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں بیوی کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اسے پستول سے ڈرا رہا تھا۔ اسلحہ دیکھ کر وہ میرے اوپر گر پڑی اور غیرارادی طور پر میرے ہاتھ سے گولی چل گئی۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ ان کے پستول میں اس وقت کل 8 گولیاں تھیں جن میں سے پانچ چل گئیں۔ ان میں سے تین گولیاں دیوار پر لگیں اور دو ان کی اہلیہ کو لگیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔

خیال رہے کہ مقتولہ میترا استاد محمد علی نفجی سے عمر میں 32 سال چھوٹی تھیں۔ ایران میں کثرت ازواج کی اجازت ہے مگر سوشل میڈیا پر علی نجفی کے طرز عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔