.

جوہری ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق مرشد اعلیٰ کا فتویٰ اور ایرانی قیادت کا دوغلہ پن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ صدی 90ء کی دہائی سے ایرانی عہدے داران جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کی حرمت کا فتوی دُہراتے آ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ فتوی تحریری شکل میں نہیں ہے اور اس کا لکھا ہوا ہونا ضروری بھی نہیں ہے، تاہم شیعہ مسلک کے مطابق اس پر عمل کے ضمن میں بعض کو پاسداری سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ویب سائٹ پر ایک بیان موجود ہے جس میں 17 اپریل 2010 کو منعقد ہونے والی ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کو مخاطب کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تمام شکلیں انسانیت کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔ ایرانی عوام کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ ان ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرے کے خطرے کو محسوس کرتے ہیں۔ ہم اس نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال حرام سجھتے ہیں اور انسانیت کو اس بڑی بلا سے محفوظ کرنے کے لیے کوشش کو سب کی مشترکہ ذمے داری شمار کرتے ہیں"۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر 27 مئی کو اپنی ٹویٹ میں اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے باور کرایا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کر رہا کیوں کہ مرشد اعلیٰ خامنہ ای کے فتوے کے مطابق اس کی تیاری حرام ہے۔

ایران نے جولائی 2015 میں دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس پر مکمل طور پر کاربند رہنے کا اعلان بھی کیا۔ کیا ایران نے اپنے اس عہد پر عمل کرتے ہوئے جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کی؟ اگر اس کا جواب نہیں ہے تو پھر جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق خامنہ ای کے فتوے کا کوئی یقین نہیں کرے گا۔ اگر خامنہ ای نے خود اپنے عہد کی خلاف ورزی کر رکھی ہو تو پھر ان سے منسوب فتوے کو باطل قرار دینا تو اولی ہو گا۔

جوہری ہتھیار کی تیاری کی حرمت کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے بیان کے جواب میں سابق وزیر خارجہ ، جوہری مذاکرات کاروں کی ٹیم کے رکن اور ایرانی ایٹمی توانائی ایجنسی کے موجودہ سربراہ علی اکبر صالحی کا متضاد موقف سامنے آیا۔ صالحی کے مطابق انہوں نے تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات کرنے والے فریقوں کو چکمہ دیا اور ان سے جھوٹ بولا اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو اس بات کا علم تھا۔

اس اعتراف کو مبصرین نے عہد کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

علی اکبر صالحی نے 22 جنوری 2019 کو ایرانی ٹیلی وژن کے چینل 4 کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد بھی تہران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کا سلسلہ موقوف نہیں کیا۔ صالحی نے معاہدے کے متن کی خلاف ورزی کرنے والی ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ خامنہ ای کی ہدایات کے تحت ہوا جو ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ امریکیوں اور یورپیوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور ہمیں ہر طرح کے امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

عہد کی خلاف ورزی شرعی طور پر اہل سنت اور اہل تشیع کے ہاں مردود ہے۔ لہذا اس طرح شیعہ مسلک کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای سے "عدل" کی صفت ساقط ہو جاتی ہے جو کہ "اجتہاد" کے لیے اہم ترین شرط ہے اور اسی سے ایرانی سپریم لیڈر کو فتوی جاری کرنے کا حق ملتا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے نائب "حسين موسويان" اصلاح پسند رہ نما محمد خاتمی کے دور صدارت میں جوہری مذاکراتی ٹیم کے سربراہ تھے۔ اس زمانے میں موسویان نے ایک مضمون تحریر کیا تھا جو "آپ لوگ فتوے کو سمجھیں" کے عنوان سے امریکی اخبار "فارن پالیسی" میں شائع ہوا۔ مضمون میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے جوہری ہتھیار کے استعمال کی حرمت سے متعلق آیت اللہ علی خامنہ ای کے فتوے کی روشنی میں بحران سے نکلنے کے لیے ایک اہم اور نئی تجویز پیش کی ہے۔ صالحی نے مذکورہ فتوے کو ایسی دستاویز کے طور پر درج کرنے کا اعلان کیا جس کی پاسداری ایرانی حکومت کے لیے لازم ہے۔

موسویان نے فارن پالیسی کے مضمون میں کہا کہ ایران میں مذہب اور سیاست کے درمیان مضبوط تعلق کے پیش نظر اس فتوے کی بے حرمتی جائز نہیں۔ اس لیے کہ سپریم لیڈر کے فتوؤں کو خصوصی مذہبی اور قانونی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ آئین کی روشنی میں سپریم لیڈر کا فتوی قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔

ایرانی شیعہ محقق اور لکھاری عباس خسروی فارسانی نے 9 اکتوبر 2013 کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں "خامنہ ای کے جوہری فتوے" پر روشنی ڈالی تھی۔ فارسانی نے طویل تجزیے کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ یہ فتوی صرف خامنہ ای کے پیرکاروں تک محدود ہے۔ خامنہ ای کے بعد نئے سپریم لیڈر کی جانب سے اس فتوے کو منسوخ کیے جانے پر ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری حلال ہو سکتی ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کے لیے خامنہ ای کے فتوے کی کیا قیمت رہ جاتی ؟

ایرانی نظام کے سرخیل خمینی نے بھی ابتدا میں شطرنج کے کھیل کی حرمت کا فتوی دی تھا۔ بعد ازاں خمینی نے پہلے فتوے کے متضاد ایک اور فتوی جاری کر کے اس کو کھیلنا حلال کر دیا۔ آج پورے ایران میں شطرنج کے کھیل کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ بہت سے شیعہ فقہاء ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی اہلیت کو تسلیم نہیں کرتے لہذا ان کی طرف سے جاری فتوؤں کی کوئی حیثیت نہیں کیوں کہ خامنہ ای اجتہاد کے درجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس بات کو باور کرانے والی اہم ترین شخصیات میں خامنہ ای کے اپنے متوفی استاد آیت اللہ حسین علی منتظری شامل ہیں۔

مشرق وسطی ٰکے امور سے متعلق بروکنگز فاؤنڈیشن کے سینئر ماہر کینیٹ پولاک نے 18 ستمبر 2013 کو ادارے میں ایک خطاب کے دوران خامنہ ای کے جوہری فتوے کو محض "خرافات" قرار دیا۔

دسمبر 2012 میں وائس آف امریکا کی فارسی سروس کے ساتھ انٹرویو میں حسین موسویان نے کہا کہ "ضروری نہیں کہ فتوی تحریری طور پر موجود ہو بلکہ یہ ایک مذہبی مرجع کا نقطہ نظر ہے جو تحریری یا زبانی کسی بھی صورت میں ہو سکتا ہے"۔

مئی 2012 میں بی بی سی کی فارسی سروس کی جانب سے موسویان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا خامنہ ای کا جوہری فتوی اُن کی ہی جانب سے کسی دوسرے فتوے سے تبدیل ہونے کا امکان ہے جس سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی اجازت مل جائے۔ جواب میں موسویان واضح طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ "میں یہ نہیں جانتا، میں کوئی عالم دین نہیں ہوں بلکہ میں تو ایک پیروکار ہوں۔ البتہ جب صدام حسین نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا تو خمینی نے فوجی عہدے داران کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا کہ اس کا جواب مماثل کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے دیا جائے۔ اس پر بی بی سی کے نمائندے نے جواب میں کہا کہ وہ خمینی تھے اور یہ خامنہ ای ہیں۔ نمائندے کا اشارہ اس جانب تھا کہ حالات کے مطابق متضاد فتوؤں کا امکان ہو سکتا ہے۔

امریکا نے 22 نومبر 2018 کو ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو کیمیائی اسلحے پر پابندی کی تنظیم OPCW سے خفیہ رکھا۔ واشنگٹن نے باور کرایا کہ تہران اس حوالے سے بین الاقوامی سمجھوتوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے تنظیم کے اجلاس میں امریکی نمائندے کینیتھ وورڈ کے حوالے سے بتایا کہ اسی طرح تہران حملوں کی غرض سے مُہلک اعصابی گیسوں کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "امریکا کو طویل عرصے سے یہ اندیشہ ہے کہ ایران کیمیائی ہتھیاروں کا پروگرام رکھتا ہے جس کا اس نے OPCW کے سامنے انکشاف نہیں کیا"۔ امریکی نمائندے نے بتایا کہ ایران نے 80ء کی دہائی میں کیمیائی مواد سے بھرے راکٹوں کی لیبیا منتقلی کا اعلان نہیں کیا جب کہ OPCW کا یہ مطالبہ تھا کہ اس کے ذریعے کا تعین کیا جائے۔ یہ راکٹ 2011 میں لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد برآمد ہوئے۔ وورڈ کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ ان کا ذریعہ ایران تھا جیسا کہ آرٹلری گرینیڈز کے بکسوں پر تحریر فارسی زبان سے ظاہر ہو رہا تھا۔

ابھی تک ایران نے OPCW کو شفاف وضاحتیں پیش نہیں کیں جس کے بارے میں اُس کا کہنا ہے کہ پہلے سپریم لیڈر خمینی نے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری اور اس کے استعمال کی حرمت کا فتوی دیا تھا۔ موجودہ سپریم لیڈر بھی اس مہلک ہتھیار کی تیاری کی حرمت کو دہرا چکے ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنی سفارتی مسکراہٹ کے ساتھ مسلکی فتوؤں کی بنیاد پر دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایرانی جوہری سرگرمیاں پُر امن ہیں جب کہ ان فتوؤں کی بین الاقوامی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔