.

داعشی جنگجو کی بیوہ نے سی آئی اے کو ابوبکر البغدادی کے ٹھکانے کا بتادیا تھا، پھر کیا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک لیڈر کی بیوہ نے امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے (سی آئی اے) کو ابو بکر البغدادی کی تلاش میں مدد دی تھی اور شام اور عراق میں ان کے خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں بتایا تھا مگر سی آئی اے کے حکام انھیں پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

اس بات کا انکشاف برطانیہ کے موقر روزنامے دا گارڈین نے جمعہ کو شائع شدہ ایک رپورٹ میں کیا ہے۔اخبار نے داعشی جنگجو کی بیوہ نسرین اسد ابراہیم کا انٹرویو اس رپورٹ میں شامل کیا ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کا امریکا سے تعلق رکھنے والی امدادی کارکن کیالا میولر کو اپنے مکان میں زیر حراست رکھنے میں کوئی کردار نہیں تھا۔

نسرین پر کیالا میولر اور دوسری یرغمالی خواتین پر اپنے مکان میں زبردستی قید رکھنے کا الزام عاید کیا جا تا رہا ہے۔اخبار کے مطابق داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی پر اسی مکان میں امریکی عورت پر جنسی حملے کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔

لیکن اخبار کی رپورٹ کے مطابق جب امریکی فوج نے انتیس سالہ نسرین کو گرفتار کیا تھا تو اس کے بعد اس نے سی آئی اے اور کرد انٹیلی جنس کو ابو بکر البغدادی کے خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں نہ صرف اہم معلومات فراہم کی تھیں بلکہ ان کے نیٹ ورک سے متعلق بھی تفصیل سے آگاہ کیا تھا۔

اس نے فروری 2016ء میں عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک مکان کی نشان دہی کی تھی جس کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا تھا کہ ابو بکر البغدادی وہاں رہتے رہے تھے۔اس مکان کا پتا چلنے کے بعد امریکی فوج نے حیرت انگیز طور پر وہاں کوئی فضائی حملہ نہیں کرایا تھا۔

نسرین اس وقت عراقی کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل میں قید ہے اور اس نے وہیں سے دا گارڈین کو یہ انٹرویو دیا ہے۔اس نے بتایا کہ ’’ میں نے انھیں (امریکیوں) کو مکان کے اتا پتا کے بارے میں بتایا تھا۔میں اس بات سے آگاہ تھی کہ ابو بکر بغدادی وہاں رہتے رہے تھے کیونکہ انھیں جو مکانات دیے گئے تھے ،ان میں سے ایک یہ مکان تھا اور وہ یہیں رہنا پسند بھی کرتے تھے‘‘۔

ابوبکر البغدادی نے 2014ء کے اوائل میں شام اور عراق کے ایک تہائی علاقوں پر قبضے کے بعد اپنی خودساختہ خلافت کا ا علان کیا تھا لیکن امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد ، عراقی فوج ، روسی فضائیہ اور شامی جمہوری فورسز کی مختلف النوع جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں گذشتہ برسوں کے دوران میں سخت گیر جنگجو گروپ کے زیر قبضہ تمام علاقے واپس لے لیے گئے تھے۔اس کے بعد ابوبکر البغدادی روپوش ہوگئے تھے اور وہ قریباً پانچ سال کے وقفے کے بعد پہلی مرتبہ گذشتہ ماہ ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے۔

امریکی فوج نے نسرین ابراہیم کو مئی 2015ء میں شام کے مشرقی علاقے میں واقع عمر آئیل فیلڈ سے گرفتار کیا تھا۔دا گارڈین کی رپورٹ کےمطابق امریکی فوج کی اس کارروائی میں اس کا خاوند مارا گیا تھا۔وہ داعش کا ایک سینیر رہ نما تھا اور اس کا عرفی نام ابو سیاف تھا۔ اربیل میں ایک فوجداری عدالت نے نسرین ابراہیم کو داعش سے تعلق کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی ہے۔

اس کے بہ قول امریکا کی امدادی کارکن کیالا میولر کو ستمبر 2014ء میں شام کے مشرقی قصبے شدادی میں واقع ان کے گھر میں لایا گیا تھا۔اس وقت عراق کے شمالی علاقے سے تعلق رکھنے والی ایزدی ( یزیدی) اقلیت کی لڑکیوں کو بھی وہاں لایا گیا تھا ۔داعش کے جنگجو ان سیکڑوں لڑکیوں کی باندیوں کے طور پر خرید وفروخت کرتے رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ کیالا میولر سے یزیدی لڑ کیوں سے بالکل مختلف سلوک کیا جاتا تھا۔اس کے لیے ایک بجٹ مختص تھا اور اس کو خریداری کے لیے جیب خرچ کیا جاتا ہے۔وہ بہت پیاری لڑکی تھی اور میں اس کو پسند کرتی تھی۔وہ قابل احترام تھی اور میں اس کا احترام کرتی تھی۔ایک اہم بات میں یہ بتانا چاہوں گی کہ وہ اپنے دکھ درد کو چھپانے میں مہارت رکھتی تھی اور انھیں ظاہر نہیں ہونے دیتی تھی‘‘۔

نسرین نے بتایا کہ اس نے آخری مرتبہ کیالا میولر کو 2014ء کے آخر میں دیکھا تھا۔تب ابو بکر البغدادی عراق سے شام منتقل ہوئے تھے۔وہ کیالا کو ایک سادہ’ کیا‘ کار میں اپنے ساتھ الرقہ لے گئے تھے۔ تین ماہ کے بعد ا نھیں کیالا کی موت کی اطلاع ملی تھی۔

داعش کے جنگجوؤں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کیالا فروری 2015ء میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئی تھی اور اس کی لا ش تباہ شدہ عمارت کے ملبے ہی میں دب کر رہ گئی تھی۔اس امریکی امدادی کارکن کو داعش کے جنگجوؤں نے شام کے شمال مغربی شہر حلب سے اگست 2013ء میں اغوا کیا تھا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کیالا کی موت کے حالات واضح نہیں ہیں اور پُراسرار ہلاکت کے وقت اس کی عمر چھبیس سال تھی۔