.

آپ ایک جنگی مجرم پر کیسے اعتبار کرسکتے ہیں؟ایرانی اخبار کا جاپانی وزیراعظم سے سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک اخبار نے صفحہ اوّل پر ایٹم بم کے دھماکے کے بعد پھیلے ہوئے چھتری نما دھویں کی تصویر شائع کی ہے۔اس میں امریکا کے دوسری عالمی جنگ کے دوران میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم گرائے جانے کا حوالہ ہے۔ اس کے ذریعے جاپانی وزیراعظم شینزو ایبے کے امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات پر بہ انداز دیگر تنقید کی گئی ہے۔ وہ بدھ کو ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچے ہیں۔وہ 1979ء میں برپا شدہ انقلاب کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے جاپان کے پہلے وزیراعظم ہیں۔

روزنامہ فرہخیتگان ( باعلم) نے انگریزی اور فارسی زبان میں یہ شہ سرخی شائع کی ہے:’’جناب ایبے ! آپ ایک جنگی مجرم پر کیسے اعتبار کر سکتے ہیں؟‘‘

ایران کے خبری ذرائع نے اس اخبار کے صفحہ اوّل کو دھڑا دھڑ نقل کرنا شروع کردیا اور اس کی خوب تشہیر کی ہے۔یہ اخبار ایران کی اسلامی آزاد یونیورسٹی کے طلبہ شائع کرتے ہیں ۔اس کے کیمپس ایران بھر میں ہیں۔

وزیراعظم ایبے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیےمصالحتی کوششوں کے ضمن میں یہ دورہ کررہے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ تنازع کے بعد کسی عالمی شخصیت کی یہ پہلی سفارتی کوشش ہے اور وہ جولائی 2015ء میں ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے پر زور دیں گے۔امریکا نے مئی 2018ء میں اس سمجھوتے کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

ایران نے سمجھوتے میں شامل یورپی ممالک کو 7 جولائی کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے کہ اگر وہ اس کو امریکا کی کڑی پابندیوں سے بچانے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات نہیں کرتے تو وہ اس سے دستبردار ہوجائے گا اور یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی کا عمل شروع کردے گا ۔اس اعلیٰ درجے کی یورینیم کو جوہری بم کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تو کہتے ہیں کہ وہ ایران کےساتھ بات چیت کے خواہاں ہیں لیکن اس کے ساتھ انھوں نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں بھی عاید کردی ہیں جس سے ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے اور اس کی تیل کی برآمدات میں بھی نصف تک کم ہوچکی ہیں۔

امریکا نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد حال ہی میں مشرقِ اوسط میں اپنے ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور بی 52 بمبار طیاروں کو بھیجا ہےاوراس نے خطے میں پہلے سے تعینات ہزاروں فوجیوں کی کمک کے طور پر مزید سیکڑوں فوجی بھی بھیج دیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جاپان کا دورہ کیا تھا ۔ جاپان کی کابینہ کے چیف سیکریٹری یوشیدہ سوگا نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز وزیراعظم ایبے سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی لیکن انھوں نے اس گفتگو کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔جاپانی وزیراعظم ان کی جانب سے دراصل ایک مصالحت کار ہی کی حیثیت سے ایران آئے ہیں۔ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔شینزو ایبے نے ٹوکیوکے ہانیڈا ہوائی اڈے سے طیارے پر سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے دورے کے چیلنج کو تسلیم کیا۔

انھوں نے کہا :’’ مشرقِ اوسط کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش پائی جاتی ہے۔جاپان خطے میں امن واستحکام کے لیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرنا چاہتا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ جاپان ایران سے خام تیل خرید کرتا رہا ہے لیکن اب اس نے امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران سے تیل کی خریداری بند کردی ہے۔

تاہم مشرقِ اوسط کے دوسرے ممالک سے تیل کی خریداری جاپان کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔یہ تمام تیل ایران کی تنگ آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز سے گذر کر ایشیا اور یورپ کو جاتا ہے۔ایران امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کی صورت میں اس آبی گذرگاہ کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔اس صورت میں دنیا کی تیل کی ایک تہائی تجارت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

ایران نے چھے بڑی طاقتوں چین ، روس ، فرانس ، برطانیہ ، جرمنی اور امریکا کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت سخت پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے سے اتفاق کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال اس سمجھوتے سے انخلا کے وقت یہ کہا تھا کہ ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کام جاری رکھا ہوا ہے اور یہ سمجھوتا ایران کے مشرقِ اوسط میں تخریبی کردار کو روک لگانے میں بھی ناکام رہا ہے۔

ایران سے ڈیل طے کرنے والوں نے تب یہ کہا تھا کہ اس سے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔ےیاد رہے کہ ایران کے امریکا کے ساتھ 1979ء کے انقلاب کے بعد سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں اور تب سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔