.

ڈرائیونگ کی اجازت ملنے سے ہماری زندگی میں بہتری آئی ہے: سعودی خواتین

سعودی عرب میں خواتین کو پہلی مرتبہ گاڑی چلانے کی اجازت کا ایک سال مکمل، خواتین کا اظہار اطمینان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’میں خود کو بہت زیادہ آزاد اور باخیتار محسوس کر رہی تھی۔‘‘ ان خیالات کا اظہار دارلحکومت ریاض کی رہائشی تیس سالہ مھا الثوینی نے عین ایک برس قبل مملکت میں پہلی مرتبہ ڈرائیور سیٹ سنبھالتے ہوئے کیا۔

چوبیس جون 2018ء نصف شب سعودی عرب کے تمام شہروں میں خواتین کو گاڑی چلانے کی باضابطہ اجازت ملنے پر جشن کا سماں تھا۔ پوری دنیا کی نظریں اس وقت سعودی عرب پر جمی ہوئی تھیں اور وہ مملکت میں رقم ہونے والی تاریخ کو دیکھ رہی تھیں۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے2017ء میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے خواتین کو بطور ڈرائیور اجازت نامے حاصل کرنے کا حق تفویض کیا تھا۔

جی ٹونئٹی تنظیم سے وابستہ سینئر پالیسی مشیر ستائیس سالہ سجا الحوشان کا کہنا تھا کہ ’’ ڈرائیونگ لائنس کے حصول کے لئے دو تین مہینے کلاسز لینے کی شرط مجھ پر گراں گذر رہی تھی، میں نے لندن سے اپنا لائنس لیا اور اسے مملکت آمد پر سعودی لائنس میں تبدیل کروا لیا۔‘‘

الحوشان کا مزید کہنا تھا کہ’’ میں عین بارہ بجے خواتین کو گاڑی چلانے کے حکومتی اعلان کے وقت گاڑی لے کر نکلنا چاہتی تھی۔ یا خدایا! مجھے یہ دن ساری زندگی یاد رہے گا۔‘‘حکومتی اعلان کے مطابق 24جون 2018ء سے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ہو گی، ’’میں نے شب بارہ بجے گاڑی سٹارٹ کی۔ میں گلیوں میں گاڑی چلا رہی تھی، جگہ جگہ موجود پولیس اہلکار پھول پیش کر کے مبارک باد دے رہے تھے۔ ہر کوئی اس لمحے کو ایک یادگار دن کے طور پر منا رہا تھا۔‘‘

جدہ کی ایک رہائشی خاتون عسیل شالی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ "مجھے ذاتی طور پر یہ نہ صرف ایک خواب حقیقت میں تبدیل ہوتا نظر آیا بلکہ میں اس کو بطور سعودی شہری اپنا حق سمجھتی تھی۔ اس پچھلے ایک سال کے دوران سعودیہ میں خواتین کی آزادی کا مطمہ نظر ہی بدل گیا ہے۔"

جدہ کی رہائشی 26 سالہ دوشیزہ عسیل شاولی نے ’العربیہ‘ کو بتایا ’’مجھے ذاتی طور پر ایک خواب پورا ہوتا دکھائی دے رہا تھا، ایک حق ملتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ گذرے سال نے خواتین کی آزادی کو نئے مفہوم سے روشناس کرایا۔‘‘

سافٹ کیئر کمپنی سے وابستہ الثوینی نے سعودی خواتین کی بڑی اکثریت کی طرح اسی سکون کا اظہار کیا جب خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کا پہلی مرتبہ اعلان ہوا: شکر ہے! ڈرائیور سے جان چھوٹی۔ انھوں نے کہا کہ میرے کام کی نوعیت ایسی تھی کہ اس میں شوہر یا ڈرائیور پر تکیہ کرنا ہمارے لئے انتہائی تکلیف دہ تھا۔‘‘

الثوینی کے مزید کہنا تھا کہ ’’ایک گھرانے میں ایک ہی ڈرائیور ہو سکتا ہے اور اگر اسے آپ کی والدہ کسی کام سے باہر لے گئیں ایسے میں کسی حسین شام آپ کو باہر جانے میں انتہائی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیز دوپہر کے کھانے یا دوستوں سے گپ شپ کی خاطر ڈرائیور کو ساتھ لے جانا انتہائی بے سکونی کا باعث ہوتا ہے کیونکہ ڈرائیور آپ کے انتظار میں سوکھ رہا ہوتا ہے۔

الحوشان کے نزدیک ڈرائیور کا مطلب ہے کہ’’آپ کی زندگی کسی دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔‘‘ بطور کنسلٹنٹ اگر مجھے رات گئے تک کام سے رکنا پڑتا ہے ، تو ایسے میں ڈرائیور میرا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بہت مشکل ہو جاتی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ’’ڈرائیور رکھنا بڑی بات ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ اپنی گاڑی خود چلا کر کہنے آنے جانے کی آزادی کی کوئی قیمت نہیں۔‘‘

امینہ عبدالقادر نامی 25 سالہ سعودی دوشیزہ گاڑی چلانے کی اجازت سے پہلے والی مشکلات قدرے مختلف تھیں۔ آپ کو مک ڈونلڈ کھانے کی خواہش ہو رہی ہے تو مجھے بھائی کی واپسی کا انتظا ر کرنا پڑتا تھا کہ وہ آئے تو مجھے مک ڈونلڈ لے کر جائے۔ وہ ہمیشہ گھر پر بھی نہیں ہوتے، تاہم اب آپ کی گاڑی ہے، آپ جہاں جانا چاہیں ، بآسانی جا سکتی ہیں۔

امنیہ کا کہنا تھا کہ "جس دن مجھے ڈرائیونگ لائسنس ملا اسی روز میں کرائے کی گاڑی لے کر ڈرائیونگ شروع کر دی۔ اب روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینا انتہائی آسان ہوگیا ہے۔ اب میں اپنے گھر کے کام بھی باآسانی کر سکتی ہوں۔"

ایک رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کے مطابق 2020ء تک خود گاڑی چلانے والی خواتین کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مرد ڈرائیوروں کی تعداد بڑھ کر 95 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق خواتین ڈرائیوروں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے سعودی عرب میں گاڑیوں کی صنعت اور گاڑیوں سے جڑی خدمات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا، جن سے روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2025 تک ہر سال گاڑیوں کی فروخت میں نو فیصد سالانہ کا اضافہ ہو گا۔ اس سے قبل یہ اضافہ 4 فیصد کی سطح پر رکا ہوا تھا۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی کےمطابق جون 2018 کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار خواتین نے ڈرائیونگ لائسنس کے لئے درخواست دی تھی۔ اب تک 50 ہزار خواتین کو لائسنس جاری کئے جا چکے ہیں۔