.

جی ٹوئنٹی سے متعلق آپ کے لئے یہ جاننا ناگزیر ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گروپ آف ٹوئنٹی [جی 20] اقتصادی لحاظ سے دنیا کے بیس ممالک کے سربراہان کے عالمی اکٹھ کا نام ہے۔ یورپی یونین اور معاشی طور مستحکم 19 ممالک اس گروپ میں شامل ہیں۔

جی 20 کی تشکیل 1999ء میں ایشیا کو درپیش اقتصادی بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے ہوئی- اسی وقت سے گروپ کسی مستقل صدر دفتر اور عملے کے بغیر کام کر رہا ہے- اس کی صدارت بھی ہر سال باری باری رکن ملکوں میں سے کسی ایک کے سپرد کی جاتی ہے۔

گروپ میں یورپی یونین کے علاوہ جنوبی افریقا، امریکا، سعودی عرب، جنوبی کوریا، جرمنی، بھارت، انڈونیشیا، اٹلی، ترکی، ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جاپان، میکسیکو، روس اور برطانیہ شامل ہیں۔ مگر ان ممالک کے علاوہ دیگر ملکوں کو بھی بطور مہمان بھی دعوت دی جا سکتی ہے۔

اس میں شامل رکن ممالک دنیا کی مجموعی آبادی کے 65 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ دنیا کی مجموعی پیداوار کا 80 فیصد حصہ بھی انہی ممالک سے آتا ہے۔ عالمی تجارت کے 75 حجم میں بھی انہی بیس ممالک کا حصہ ہے- اس سالانہ ملاقات کے دوران عالمی رہنما سب سے اہم مالیاتی اور اقتصادی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

جی ٹوئنٹی کے قیام کے نو سال بعد 2008 کے عالمی معاشی بحران کو سنبھالنے میں کافی مدد ملی۔ یاد رہے کہ 2008ء کا عالمی معاشی بحران گذشتہ 80 برس کے دوران آنے والا بدترین معاشی دھچکا تھا۔ واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کی بدولت عالمی معاشی نظام میں لوگوں کا اعتماد بحال ہوا۔ اجلاس کے دوران رکن ممالک نے معاشی اصلاحات متعارف کروانے کے لئے چالیس کھرب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے کا اعلان کیا۔

اس گروپ کے 2017ء میں جرمنی میں منعقدہ اجلاس کا مرکزی نقطہ معاشی کرپشن تھا جب کہ 2018ء میں ارجنٹائن میں ہونے والے اجلاس میں پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز رہی۔ اس سال جاپان کے شہر اوساکا میں ہونے والے جی 20 سمٹ کے دوران عالمی تجارتی ادارے "ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن" میں اصلاحات اور صحت سے متعلق عالمی مسائل پر بحث ہو رہی ہے۔ اگلا سمٹ نومبر 2020 میں سعودی عرب میں منعقد ہو گا۔

جی 20 سمٹ کے گذشتہ اجلاسوں کے دوران متعدد تاریخ ساز لمحے پیش آ چکے ہیں جن میں سربراہان مملکت کے درمیان تاریخی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتین کی پہلی ملاقات جی 20 سمٹ کے دوران ہی ہوئی تھی۔