.

شام میں تیل کے نام پر"ہوا" فروخت کی جانے لگی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایندھن کی تقسیم کرنے والا ایک درمیانے حجم کا ٹرک شہریوں کو مازوت (لو گریڈ آئل) کے نام پر ہوا فروخت کرتا پھر رہا ہے۔ سرکاری اداروں کے لائسنس یافتہ اس ٹرک کا ڈرائیور لوگوں کی گاڑیوں کی ٹینکی میں ہوا بھر کر اُن سے مطلوبہ پیسے اینٹھ رہا ہے۔

متعدد شامی شہریوں نے اس ٹرک کے خلاف شکایت کا اندراج کرایا ہے۔ یہ ٹرک میٹر کے ذریعے مازوت ایندھن کی نارمل بھرائی ظاہر کرتا ہے مگر اس کے جانے کے بعد ایندھن کی سطح جانچنے پر لوگوں کو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ٹینک کے اندر موجود ’ایندھن‘ ہوا ہو چکا ہے!

شامی حکومت کی وزارت تجارت کے زیر انتظام ٹریڈ ڈائریکٹریٹ کے مطابق مذکورہ لائسنس یافتہ ٹرک اور اس کے ڈرائیور کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ ڈرائیور نے اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے لوگوں سے ایک ہزار لیٹر کے قریب مازوت کی قیمت وصول کی جب کہ اس کے بدلے ان کے ٹینکوں میں خالی ہوا ڈالی گئی۔ ڈائریکٹریٹ نے ٹرک ڈرائیور کی اس کارستانی کو دھوکا دہی قرار دیا۔

شام میں حکومتی نرخوں کے مطابق مازوت کے ایک لیٹر کی قیمت 183 لیرہ ہے جب کہ بلیک مارکیٹ میں یہ کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ رواں سال اپریل میں اس کی قیمت 450 لیرہ تک پہنچ گئی تھی جو پڑوسی ممالک میں مازوت کی قیمت کے لحاظ سے کافی زیادہ ہے۔

شام میں بشار حکومت کو رواں سال اپریل سے ایندھن کے بحران کا سامنا ہے۔ بالخصوص شامی حکومت اور اس کے حلیف ایران پر امریکی پابندیوں کے نتیجے میں اس کی شدت اور سنگینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شامی امور کے ماہرین بشار حکومت کی قریبی شخصیات پر اجارہ داری کے ذریعے مختلف مواد بالخصوص ایندھن کی قیمتوں میں من مانے اضافے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ان موادوں میں بچوں کا دودھ بھی شامل ہے جب کہ حکومت کی جانب سے اس پر کسی قسم کی نگرانی یا احتساب عمل میں نہیں لایا جا رہا۔