.

پاکستان سمیت 5 ملک’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام سے فائدہ اٹھائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ویژن 2030 منصوبے کے تحت خادم الحرمین الشریفین کی حکومت نے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لئے ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ کے عنوان سے پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد حجاج کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ یکسوئی کے مناسک حج ادا کر سکیں۔

’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام سے استفادہ کرنے والے عازمین حج کی امیگریشن، سامان کی بکنگ اور کوڈنگ ان ہوائی اڈوں سے ہوا کرے گی جہاں سے وہ حج پر روانہ ہوں گے۔ اس پروگرام کے تحت ان کا سامان مکہ یا مدینہ میں ان کی رہائش گاہوں تک پہنچایا جائے اور انہیں کسٹم اور امیگریشن کلیئرنس کے لئے سعودی عرب میں طویل انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔

اس سال موسم حج میں پانچ ملکوں سے تعلق رکھنے والے دو لاکھ پچیس ہزار حجاج فائدہ اٹھائیں گے۔ ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام میں تیونس، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائشیا شامل ہیں۔

سعودی عرب پہنچ کر ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام میں شامل ملکوں کے حاجی ہوائی اڈے سے سیدھے بسوں میں سوار ہو کر مکہ اور مدینہ میں اپنی رہائش گاہوں تک جائیں گے۔ ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ سے وابستہ ملکوں کے حجاج کا بک کرایا گیا سامان متعلقہ محکمہ اپنے طور پر ان رہائش گاہوں تک پہنچائے گا، جہاں حجاج کا قیام ہو گا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل پاسپورٹ سعودی عرب کے حکام ان ہوائی اڈوں پر موجود ہوں جہاں سے روڈ ٹو مکہ پروگرام سے استفادہ کرنے والے ملکوں کے حجاج عازم سفر ہوں گے۔

واضح رہے کہ سعودی پاسپورٹ کنڑول کا عملہ تمام فنی نیٹ ورک کے ساتھ روڈ ٹو مکہ پروگرام کے تحت آپریٹ ہونے والے ہوائی اڈوں پر موجود ہو گا اور وہ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے کمپیوٹر کے ذریعے ان تمام سفری دستاویزات کا جائزہ لیں گے اور حجاج کے بورڈنگ کارڈ اور ضروری شناختی کارڈ کی چیکنگ کرے گا تاکہ سعودی عرب میں حج ڈائریکٹوریٹ کا عملہ انہیں جلد از جلد اپنی رہائش گاہوں تک پہنچا سکے۔