.

امریکا کے پولیٹیکو نیوز لیٹر میں قطر کے حق میں تشہیری لوازمے کی بھرمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے دورہ امریکا کے تناظر میں دوحا حکومت نے کثیر الاشاعت مؤقر امریکی اخبار میں قطر-امریکا تعلقات کے حوالے سے ایک منظم پروپیگنڈہ مہم چلائی۔ پولیٹیکو پلے بک نیوز لیٹر نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی تشہیر کے لئے بھاری رقوم کے عوض اشتہاری پیغامات اور لوازمہ شائع کیا۔

امریکی ریاست ورجینیا سے سیاسی خبریں شائع کرنے والے ادارے نے دوحا سے رقم لے کر ایسی اشتہاری مہم چلائی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کو نمایاں کیا گیا تھا حالانکہ امریکا کے سرکردہ اتحادیوں نے دہشت گردی کی پشتی بانی کی پاداش میں قطر کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ قطری حکومت کے ایک اشتہاری پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا ’’قطر اور امریکا خطے میں امن واستحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوجی اور خفیہ معلومات کے شعبہ میں مضبوط تعاون کر رہے ہیں۔‘‘

پولیٹیکو نیوز کے ’’پولیٹیکو فوکس‘‘کارنر کے لئے مضامین لکھنے والے ایک قلم کار نے قطری حکومت سے اعزازیہ وصول کر کے ’’العدید: دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرنے والا گیارہ ہزار فوجیوں کا گھر" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔ [یاد رہے کہ دوحا میں العدید کے مقام پر فوجی اڈا مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کا ہیڈ کوارٹر ہے، جس میں حال ہی میں قطری سرمایہ سے توسیع کی گئی ہے]


مضمون میں امریکا کے لئے قطر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے قطری امیر کے دورہ امریکا کے دوران زیر بحث آنے والے ایجنڈے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ مضمون نگار کے مطابق دورہ امریکا کے دوران قطری امیر سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے کے لئے جاری بین الاقوامی دباؤ جیسے معاملات پر امریکی حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔

رقم کے عوض قطری حکومت کا تیارکردہ پروپیگنڈہ مواد شائع کرنے پر ’’پولیٹیکو‘‘ پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ اشتہاری لوازمہ کے ساتھ پولیکیٹو کا اپنا تیارکردہ ادارتی مواد بھی شائع کیا جاتا ہے، تاہم نیوز لیٹر رقم کے عوض مشتہر کے تیار کردہ لوازمہ کو اس وضاحت کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرتا کہ اسے اشتہار دینے والے نے تیار کیا ہے۔ ایسا اشتہاری لوازمہ تیار کرنے میں پولیکٹیکو کے شعبہ ادارت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این اور فوکس نیوز‘‘ کے لئے مضامین لکھنے والے ایرک ایرکسن نے قطری حکومت کا تیار کردہ لوازمہ شامل اشاعت کرنے پر ’’پولیٹکیو‘‘ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’دوحا اپنی سرزمین سے چلنے والے دہشت گردی کے منظم نیٹ ورک کے بارے تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔‘‘

ایرکسن’’باغی‘‘ کے عنوان سے اپنے بلاگ میں رقم طراز ہیں ’’پولیٹیکو پلے بک پر تنفید کو اس کی تحقیر پر محمول کرنا درست نہیں کیونکہ اصل میں تو قطر رقم دے کر وہاں ایسا پروپیگنڈہ شائع کروا رہا ہے جس میں [خلاف حقیقت] دوحا کے دہشت گردی سے ملنے والوں ڈانڈوں کا انکار کیا جا رہا ہے۔‘‘

ایرک ایرکسن نے مزید لکھتے ہیں: ’’قومی سلامتی سے متعلق حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ دوحا سے متعلق منفی خبریں دبانے یا سعودی عرب اور قطر کے خلاف خم ٹھونک کر سامنے آنے والے دوسرے امریکی اتحادیوں کے خلاف خبروں کو نمایاں کرنے کے لئے قطر امریکی نشریاتی اداروں میں بھاری رقوم تقسیم کر رہا ہے۔ قطر کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے سے متعلق کوششوں کئی جگہوں پر محسوس کیا گیا ہے۔‘‘

فلمساز مائیک سرنووچ کی فلم ’’بلڈ منی [دیت]: قطر نے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی میڈیا اسٹیبلشمنٹ کیسے خریدی؟‘‘ کے ایک سین میں اس طریقہ کار سے پردہ اٹھایا ہے کہ ’’دوحا حکومت کیسے امریکی میڈیا اداروں اور واشنگٹن ڈی سی کے لابئسٹ کو اپنا پروپیگنڈہ فروغ دینے کے لئے رقم کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔‘‘

انھوں نے فلم میں بتایا کہ ’’ایک مضحکہ خیز بات اس وقت ہوئی جب میں نے پولیٹکیو کے رپورٹر کو گذشتہ روز بتیا کہ میں قطر کا پردہ چاک کرنے والا ہوں، تو وہ گویا ہوا :اوہ شٹ، تمھیں پیسے کون دے رہا ہے؟ میں نے کہا کوئی نہیں، تو اس نے پھر کہا کہ رہنے دو یار ۔۔ اگر تم کسی موضوع پر دستاویزی فلم بنا رہے تو وہ بالیقین غیر ملکی ہو گی۔ وہ اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ وہ مجھے الزام بھی نہیں دے رہا تھا۔‘‘ اس نے پھر کہا کہ اوہ یہ تو اچھی بات ہے۔ اگر یہ قطر کے خلاف ہوئی تو یقینا سعودی تمھیں ڈھیروں رقم دے رہے ہوں گے۔ میں نے اس سے بھی انکار کیا تو پہلی سوچ ان کے دماغ میں یہی آئی تھی۔

جون 2017 میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، مصر نے فرقہ وارانہ اور دہشت گرد تنظیموں کو گلے لگا کر خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرات سے دوچار کرنے کی پاداش میں قطر سے سفارتی تعلقات ختم کر لئے تھے۔

حالیہ چند برسوں کے دوران قطر نے امریکا میں اپنی لابنگ کی کوششیں تیز کی ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے رجسٹرڈ غیر ملکی ایجنٹس کے ریکارڈ تک رسائی سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ قطر نے دو ہزار سترہ کے دوران لابنگ کی مد میں 16.3 ملین امریکی ڈالرز خرچ کئے۔ یہ رقم گذشتہ برس اسی مد میں خرچ کی جانے والے رقم سے 4.2 ملین ڈالر زیادہ تھی۔

امریکا کے بعض سرکردہ قانون سازوں نے محکمہ انصاف سے قطر کے ملکیتی الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کو ’’غیر ملکی ایجنٹ‘‘ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے محکمہ انصاف 18 جون کو لکھے گئے ایک خط میں یہ مطالبہ کیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے الجزیرہ جو کچھ دکھا رہا ہے، اس سے ریاست قطر کی پالیسیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے اور الاخوان المسلمون اور حماس ایسے گروپوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔

اس خط میں امریکی سینیٹروں نے کہا ہے: ’’ قطری حکام کے بہ قول حکومت کے کنٹرول میں میڈیا ’’نرم طاقت‘‘ کی ایک شکل ہے۔ یہ بآسانی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ الجزیرہ قطری حکومت کی پیغام رسانی کا آلہ ہے۔ وہ اس کے ایماء پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوّث ہے اور امریکا میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے‘‘

حال ہی میں امریکی قانون سازوں نے امریکی محکمہ انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ قطری ملکیتی میڈیا نیٹ ورک الجزیرہ کو "غیر ملکی ایجنٹ" قرار دے، کیوں کہ اس کا مواد نہ صرف قطر کی ریاستی پالیسیز کو فروغ دیتا ہے، بلکہ اخوان المسلمون اور حماس کو بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

سیکیورٹی اسٹڈیز گروپ نامی امریکی تھنک ٹینک کے بانی ڈیوڈ ریبوئے کا کہنا ہے کہ’’ قطر کا اثرو نفوذ اور انفارمیشن آپریشنز ماضی کے چند برسوں میں سب سے کم زیر بحث رہا اور ان کی نہ ہونے کے برابر جانچ پڑتال کی گئی۔‘‘

ریبوئے کے پانچ جولائی کو شائع مضمون کے مطابق ’’اب صورتحال آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے۔ قطر کی جانب سے اخوان المسلمون کی ترویج اور ایران سے اتحاد کے بعد امریکیوں کو بھی احساس ہو چلا ہے کہ دوحا صرف مشرق وسطیٰ ہی میں نہیں بلکہ امریکا میں بھی ایک مجرم طاقت بنتی جا رہی ہے۔‘‘