.

معمّر انڈونیشین جس کے لیے شاہ سلمان نے حج کی میزبانی کی ہدایات جاری کیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا میں عوامی، سرکاری اور سفارتی حلقوں نے خادم حرمین شریفین کی جانب سے عمر رسیدہ انڈونیشی شہری "یوحی" اور ان کے اہل خانہ کے لیے حج کی میزبانی کے اقدام پر مثبت اور امتیازی ردود فعل کا اظہار کیا ہے۔

انڈونیشیا میں سعودی عرب کے سفیر عصام الثقفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سفارت خانے کے میڈیا ڈپارٹمنٹ نے خادم حرمین شریفین کی ہدایات کو انڈونیشی اخبارات ، ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں نشر کیا۔ اس کے نتیجے میں توقع سے بڑھ کر خوب صورت ردود سامنے آئے .. اور حجاج کرام کی خدمت کے لیے سعودی عرب کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا گیا۔

الثقفی نے مزید بتایا کہ سعودی عرب میں انڈونیشیا کے سفیر نے بھی اس انسان دوست منصوبے پر خادم حرمین شریفین کا شکریہ ادا کیا ... انڈونیشیا کے سفارت خانے اور انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ذمے داران کی جانب سے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا۔

مذکورہ عمر رسیدہ انڈونیشی شہری کی عمر کے حوالے سے متضاد معلومات مل رہی ہیں۔ اس شہری کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ دیہاتی ہونے کے سبب اس کا پیدائش کا سرکاری سرٹفکیٹ جاری نہیں ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق اس شہری کی عمر 130 برس کے قریب ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس شہری کا شناختی کارڈ جاری ہوا جس پر اس کی عمر بھی لکھی گئی۔

سعودی سفیر عصام الثقفی نے اپنے دفتر میں انڈونیسی شہری سے ملاقات کی۔ پونشاک کے پہاڑی علاقے میں سکونت پذیر یہ انڈونیشی پیشے کے لحاظ سے کاشت کار ہے۔ اس کی چار بیٹیاں اور 15 نواسے نواسیاں ہیں۔ یوحی کی اہلیہ کافی عرصہ پہلے فوت ہو گئی تھی جس کے بعد اس نے دوسری شادی نہیں کی۔ سفارت خانے کے دورے کے موقع پر ملاقات کے دوران یوحی کے گھرانے نے اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار کیا کیوں کہ یوحی اس سے پہلے کبھی حج کے سفر پر نہیں گیا۔

معمر اور جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باوجود یوحی پانچوں وقت کی نماز پابندی سے ادا کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ رمضان مبارک میں وہ قرآن کریم کی تلاوت کا خصوصی اہتمام کرتا ہے۔ وہ دیگر لوگوں کی زرعی اراضی پر چاول اور سبزیاں کاشت کر کے انہیں منڈی میں فروخت کرتا رہا ہے۔

سعودی سفیر نے بتایا کہ "عمر رسیدہ انڈونیشی شہری یوحی اور اس کے گھرانے کی جانب سے ایک وڈیو کلپ میں فریضہ حج کی ادائیگی کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس کلپ کے گردش میں آتے ہی جکارتا میں سعودی سفارت خانے نے اس خاندان سے رابطہ کیا۔ اگلے روز اس گھرانے کو سفارت خانے بلا کر ان سے مزید تفصیلات کی جان کاری حاصل کی گئی۔ ملاقات کے بعد ہمیں ہدایات موصول ہوئیں کہ یوحی اور اس کے گھر والوں کے لیے حج کی میزبانی کا انتظام کیا جائے۔ اس وقت سعودی سفارت خانہ ان لوگوں کے حجاز مقدس کے سفر کے انتظامات مکمل کر رہا ہے"۔