.

سائنس دانوں نے ناقابل انہدام شیشے کی ایک نئی قسم تیار کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے مطابق سائنس دانوں نے shatterproof (ناقابل انہدام) شیشے کی ایک نئی قسم تیار کی ہے۔ اس کا بنیادی خیال سمندر میں پائی جانے والی سیپی کی مضبوطی سے لیا گیا ہے۔

سیپی اپنے اندر موجود مواد nacre کی بدولت انتہائی مضبوط اور محفوظ خول رکھتی ہے۔

سائنس دانوں کا تیار کردہ نیا شیشہ ٹیمپرڈ گلاس کے مقابلے میں 3 گُنا اور عام شیشے کے مقابلے میں 24 گُنا زیادہ مضبوط ہے۔

اس حوالے سے مونٹریال میں McGill یونیورسٹی کے ایک میکینکل انجینئر فرانسوا بارتھیلٹ کا کہنا ہے کہ "گاڑی، عمارت یا پھر اسمارٹ فون میں شیشے کے اجزاء ہمیشہ کمزور ترین ہوتے ہیں اور یہ پورے نظام میں نازک ترین شمار کیے جاتے ہیں"۔

البتہ nacre جو سیپی کو مضبوط ترین خول فراہم کرتا ہے یہ اینٹوں کی ایک دیوار کی مانند ترتیب دیا ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کی ٹیم نے الٹرا وائلٹ لیزر شعاؤں کا استعمال کر کے بوروسیلیکیٹ گلاس شیٹ پر hexagonal پیٹرن ثبت کیے۔ اس گلاس شیٹ کی موٹائی صرف 220 میکرون تھی۔ اس کے بعد گلاس شیٹ کو پلاسٹک کی باریک تہہ چڑھا کر اس کو علاحدہ ٹائلوں کی شکل میں کاٹ لیا گیا۔

انجینئر بارتھلیٹ کے مطابق اس شیشے کو تیار کرنے کا طریقہ آسان ہے اور اس کو مناسب لاگت کے ذریعے بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے۔

البتہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو بعض مشکلات کا سامنا ہے جن کو حل کیا جانا چاہیے۔ ان میں نئے ایجاد کردہ شیشے کی سختی کو کم کرنا شامل ہے جو دباؤ ڈالے جانے کی صورت میں شیشے کو خم دار کر سکتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایسے لچک دار گلاس تیار کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے جو موڑے جانے کے بعد دوبارہ ٹوٹے بغیر اپنی اصل حالت پر آ سکتے ہوں۔