.

خلیجی ملکوں کی اہم نشانیوں مشتمل زیر آب تاریخی ورثہ عجائب گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے مشرقی علاقے الدمام میں نصف القرم ساحل کے قریب زیر سمندر خلیجی معالم اور سیاحتی وتجارتی مقامات پر مشتمل ایک منفرد عجائب گھر بنایا ہے۔

زیرسمندر اس منفرد میوزیم میں ماحول دوست گائوں اور مچھلیوں کے لیے پُر کشش مقام کے قیام کا مقصد سمندر میں آبی حیات کے ماحول کو بحال کرنا ہے تاکہ سمندر میں مچھلیوں کی افزائش اور ان کی کثرت میں اضافہ کیا جا سکے۔

غوطہ خور ٹیم کے سپروائزر مازن البشیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا میوزیم ہے۔ ہم غوطہ خوری کے دیوانے ہیں۔ دمام کے ساحل کے قریب ان کےمشن کے لیے آبی ماحول زیادہ موزوں ہے، اس مقصد کے لیے ہم نے پانی میں فائبر کے کچھ ٹکڑے اتارے، انہیں برج الخلیفہ ، الفیصلیہ ، مملکت، خنجر عمان، برج الکویت، برج البحرین، اھرامات مصر اور دیگر مقامات کے نمونے تیار کرکے ماحول دوست حالات کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں مازن البشیر کا کہنا تھا کہ غوطہ خور ٹیم نے پلاننگ، ڈیزائننگ، انتظامی امور، متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کاری اور دیگر امور کے لیے ذمہ داریاں تقسیم کی گئیں۔ حکومت کی معاونت سے غوطہ خور ٹیم نے سمندر میں مچھلیوں کے لیے ایک ایسا پرکشش ماحول پیدا کیا جس نے زیرآب سرگرمیوں کو منفرد شکل دے دی۔

غوطہ خور ٹیم کے کپتان رحاب العباس نے کہا کہ خلیج عرب کی گہرائی میں غوطہ خوری ایک خواب تھا۔ اس سے قبل وہ بحیرہ احمر اور بحیرہ روم میں غوطہ خوری کا شوق پورا کرچکے ہیں۔

فوٹو گرافر محمد الحمادی نے زیرآب اس منفرد میوزیم کی تصاویر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ارسال کی ہیں۔