'باب کعبہ' کا قصہ جسے شاہ عبدالعزیز کے حکم پر تیار کیا گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مملکت سعودی عرب کے بانی اور ریاست کے پہلے فرمانروا شاہ عبدالعزیزآل سعود مسجد الحرام، خانہ کعبہ، عازمین حج اور عمرہ زائرین کے معاملات پر خاص توجہ دیتے۔ سنہ 1363ھ بہ مطابق 1944ء یعنی آج سے 75 برس پیشتر انہوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ تیار کرنے کا حکم دیا جس اٹھنے والے تمام اخراجات انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے۔ اس سے قبل باب کعبہ 1045 بہ مطابق 1635ء کو تعمیر کیا تھا۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق شاہ عبدالعزیز کے حکم پر تیار کیے جانے والے باب کعبہ کو مکمل کرنے میں تین سال کا عرصہ لگا۔ آہنی دروازے کے دو الگ الگ پاٹ تیار کیے گئے جن کونوں پر لکڑی لگائی گئی اور ان پر چاندی کی قلعی کی گئی۔ باب کعبہ کا ایک خصوصی قفل تیار کیا گیا جس پر 1308ھ کی تاریخ درج ہے۔

شاہ عبدالعزیز ثقافتی مرکز کے ریکارڈ کے مطابق شاہ عبدالعزیز کے حکم پرتیار کردہ باب کعبہ 15 ذی الحج 1366ھ بہ مطابق 31 اکتوبر 1947ء جمعرات کے روز نصب کیا گیا۔ اس کے بعد شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں اس دروازے کی تجدید کی گئی اور 22 ذی القعدہ 1399ھ بہ مطابق 13 اکتوبر 1979ء کو نیا باب کعبہ نصب کیا گیا۔ یہ باب اس اعتبار سے منفرد ہے کیونکہ اسے خالص 280 کلو گرام سونے سے تیار کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اسے دنیا کا سب بڑا سونے کا بلاک قرار دیتے ہیں۔ یہ باب آج بھی موجود ہے۔ خانہ کعبہ کے اندر سے چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی بنائی گئی ہے اور اس پر نصب دروازے کو 'باب کعبہ' کہا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں