.

معاشرتی تبدیلیوں اور فنون لطیفہ میں حسین امتزاج پیدا کرنے والی سعودی دوشیزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک نوجوان خاتون آرٹیسٹ نے سعودی عرب کے فنون لطیفہ اور معاشرتی تبدیلیوں کو کچھ اس انداز میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ کیا ہے کہ اس کی شہرت سات سمندر پار پہنچ گئی ہے۔

سعودی عرب کے آرٹ، فنون ، کلچر اور تہذیبی اقدار و روایات کو عالم گیر شکل دینے والی اس سعودی دوشیزہ آرٹیسٹ عروہ النعیمی کے حالات وخیالات قارئین تک پہنچانے کی سعی کی ہے۔ اس نے 'نیور نیور لینڈ' کے عنوان سے ایک آرٹس کے مختلف نمونوں کی سیریز کے ذریعے عالمگیر بننے کی کامیاب کوشش کی اور اپنی فنی ڈرائنگ کے ذریعے معاشرے کی تقلید کرنے میں اپنی صلاحیت کو پیش کیا۔

مصورہ اور آرٹیسٹ عروہ النعیمی فطرت کے جمالیاتی حسن پرغور کرنا اور ان مخلوقات کے بارے میں سوچنا پسند کرتی ہیں جنہیں ان کی استانیوں نے اپنی پینٹنگز کی بنیادی باتوں میں سےاپنی ڈرائنگ کی انتہا کر دی تھی۔

عروہ نے اپنی پینٹنگز اور فائن آرٹ گاؤں میں کھینچنے اور بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ، 2005 میں اس نے مفتاح ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں مسلسل تبدیلی آنا شروع ہوئی اور اس کا انداز نظر بدلنا شروع ہوگیا۔ اس نے ایوارڈ کی قیمت سے ایک کمپیوٹر سسٹم خرید کیا اور مختصر آرٹ فلموں کے لیے دیگرآلات کی تیاری شروع کردی۔ عروہ جدہ منتقل ہوگئیں اور آرٹ کے معاشرتی کاموں کو متعارف کرانے اور فن کی دنیا میں اپنے لئے نام پیدا کرنے لگیں۔ سنہ 2017ء کو اس نے ایک مربوط نمائش کا اہتمام کیا جس سے اس انداز کو تبدیل کیا گیا کہ سعودی عرب میں اس فن کو کس طرح متعارف کرایا گیا ہے۔

عروہ نے کہا 'ایک سال پہلے سعودی عرب آج سعودی عرب نہیں ہے ، فرق واضح اور ٹھوس ہےاور ایک اہم ثقافتی تحریک بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے پاس میوزیم نہیں تھے، سینما حرام تھا، آرٹ کلچر نہیں تھا، ہمیں آرٹ کی روح دینے کے لئے اس تبدیلی کی ضرورت ہے۔

مختصر فلم

عروہ نے کہا کہ نے حال ہی میں ایک مختصر فلم ختم کی جو گذشتہ ادوار کی عکاسی کرتی ہے جب خواتین کو ان کے حقوق نہیں ملتے تھے۔ میں موسم گرما کے دوران ابھا کے ایک تہوار میں لڑکیوں کے جذبات کو اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی تھی جنہوں نے چلا چلا کر کھیل دکھائے جانے اور کھیلوں کے شہر سے لطف اندوز ہونے کے لئے نئے طریقے تلاش کیے'۔

انہوں نے اس خیال کی وضاحت کے تناظر میں بتایا کہ وہ اس منظر میں متضاد جذبات کی ایک سیریز کو دستاویزی کرتی ہیں جب وہ خواتین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے باوجود انھیں خبردار کرتی تھیں ان کے چیخنے چلانے اور اپنے گاؤن اٹھانے کی صورت میں انہیں گاڑیوں سے نکال دیا جائے گا مگر اب وقت اور حالات سب بدل چکے ہیں۔ اب ہنسی مذاق اور تفریح کی عام کی اجازت ہے۔

عروہ نے ایک دوسری چھوٹی فلم بنائی جسے' Red Lipstick' کا عنوان دیا گیا اس میں نقاب اور اس کے اسرار رموز کی جمالیات کو نمایا کرنے کی کوشش کی گئی۔ بہت سے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میں سعودی عرب میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں کی عکس بندی کرو۔ میں اس آئیڈیے پر سوچ رہی تھی مگر فی الحال اس پر صرف غور ہی کیا جا رہا تھا تاکہ میں جب کام شروع کروں تو لوگوں کی طرف سے اس میں میری مدد اور تعاون مل سکے'۔

سعودی خواتین مضبوط ہیں

ایک سوال کے جواب میں عرویٰ نعیمی نے کہا، "سعودی خواتین مضبوط ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ انھیں قدیم زمانے سے ہی اپنے خیال کو درست کرنے کی ضرورت ہے، خاص کر خوابوں کے اس نئے دور میں۔ مجھے پوری وثوق کے ساتھ یقین ہے کہ ہم اپنے ملک کی تمام خواتین کے تبدیلی کے سفر پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ میں تمام محبت اور امن کے ساتھ خالص پن پر یقین رکھتی ہوں نہ کہ ظاہری چھلکے پر جس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔

وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں سعودہ عرب کے جنوبی علاقوں کی لڑکی ہوں۔ خمیس مشیط جہاں شاہ خالد ایئر بیس ہے میرآبائی شہر ہے۔ میرے والد ایک خوبصورت انسانوں میں سے ایک ہیں۔ میں نے نظام اور کام اور عزم اور عزم کی محبت میں پرورش پائی۔ ذائقہ، احسان مندی، رواداری، سخاوت اور تخلیقی صلاحیتیں مجھے ورثے میں ملیں۔ خاص طور پر کھانا پکانے اور فطرت، جانوروں اور زندگی کی خوبصورتی سے پیار میری عادت ہے اور میرے عزائم کی کوئی حد نہیں ہے میرے عزائم بہت بلند ہیں جیسا کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے بیان کیا ہے۔ ہمارے عزائم آسمان کو گلے لگا رہے ہیں'۔