سعودی گھرانے کے ساتھ 50 برس گزارنے والے یمنی "چچا حسن" کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں ایک مقامی خاندان نے یمن سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک بزرگ ملازم کی وفات پر تعزیتی مجلس کا اہتمام کیا۔ مذکورہ ملازم کا نام حسن عیاش تھا اور ان کی وفات 70 برس کی عمر میں ہوئی۔ حسن نے اس خاندان کے ہاں 50 برس کے قریب کام کیا۔ اس طویل عرصے میں سعودی خاندان نے حسن کو اپنے گھرانے کا ایک فرد شمار کیا۔

یمنی حسن عیاش کے کفیل فہد الخزام نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "چچا حسن 1390 ہجری مطابق 1970ء میں سعودی عرب آئے۔ انہوں نے ابراہیم الخزام کے ہاں ان کے فارم پر کام کیا۔ اس وقت چچا حسن کی ماہانہ تنخواہ 75 ریال تھی۔ کھجور کی فصل کے کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ ہر سال یمن میں اپنے گھر والوں کے پاس جاتے تھے .. اور پھر سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی مملکت لوٹ آگے۔ وہ حائل شہر کے دیوانے تھے اور اس کے علاوہ کہیں کام کرنے سے انکار کر دیتے تھے"۔

فہد الخزام نے مزید بتایا کہ "چچا حسن کی سیرت خوشبو کی طرح معطر تھی ، جو ان کو جان لیتا وہ ان سے محبت کرنے لگتا تھا۔ وہ حائل کے علاقے میں ایک معروف شخصیت تھے جہاں انہیں لوگ ہمارے خاندان کی طرف منسوب کر کے "حسن الخزام" کے نام سے پکارا کرتے تھے کیوں کہ وہ ہمارے گھرانے کا ایک فرد بن گئے تھے۔ گھر، فارم اور مسجد کے حوالے سے ان کی زندگی کا ایک متعین نظام الاوقات تھا۔ وہ جلدی سوجایا کرتے تھے"۔

الخزام کے مطابق 1396 ہجری مطابق 1976 میں والد صاحب کے انتقال کے بعد گھر کے تمام افراد چچا حسن کو ہی والد کا مقام دیتے تھے اور ان کے لیے دل میں خصوصی احترام رکھتے تھے۔

الخزام نے بتایا کہ "بدھ کے روز ہمارے گھرانے نے چچا حسن کی تدفین کی اور تعزیت کی مجلس کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر حائل کی مقامی آبادی اور یمنی کمیونٹی کے لوگ قبرستان میں جمع تھے۔ ان میں ہمارے جاننے والے بھی تھے اور بہت سے ایسے بھی تھے جن کو ہم نہیں جانتے تھے۔ چچا حسن کی خواہش تھی کہ سعودی عرب میں فوت ہونے کی صورت میں انہیں میرے والد ابراہیم الخزام کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ ہم نے ان کی یہ خواہش پوری کر دی"۔

الخزام نے واضح کیا کہ چچا حسن کا ایک بیٹا اور 6 بیٹیاں ہیں۔ ان کے بیٹے سے رابطہ کر کے ان کے والد کی وفات سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے والد آپ لوگوں کے والد ہیں۔ آپ ان کی سعودی عرب میں تدفین کی خواہش پوری کریں۔ انہوں نے ہمیں تدفین کے لیے وکالت نامہ بھی بھیج دیا تھا۔

چچا حسن عیاش کی وفات کے حوالے سے فہد الخزام نے بتایا کہ ان کے اپنے کھجور کے 6 درخت ہیں۔ وہ ان سے حاصل کھجوروں کو ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ وفات کے دن بھی وہ معمول کے مطابق باغ گئے اور رسّی معلق کر کے کھجور کے درخت کے اوپر پہنچ گئے۔ وہاں سے کھجوریں توڑنے کے دوران ہی وہ زمین پر آ گرے۔

میری ایک بہن جب باغ میں پہنچی تو وہاں ایک درخت کے نیچے چچا حسن کو گرا پایا۔ اس نے فوری طور پر ہم سے اور ہلال احمر سے رابطہ کیا۔ ہسپتال پہنچنے پر ہمیں بتایا گیا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ وہ جس وقت کھجور کے درخت پر چڑھے ہوئے تھے اس دوران انہیں دل کا دورہ پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں