.

ایران نواز حوثی ملیشیا سے تعلق کے الزام میں یمنی طالب علم امریکا میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک یمنی طالب علم کو ایران نواز حوثی ملیشیا سے تعلق کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔امریکا کے وفاقی ادارہ تحقیقات ( ایف بی آئی) نے اس کے حوثی باغیوں سے تعلق کو ثابت کرنے کے لیے تین سال تک تحقیقات کی ہے۔

پچیس سالہ غفار محمد ابراہیم الوزر کو ریاست پنسلوینیا کے علاقے آلٹونا میں سات نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔اس پر امریکا کے محکمہ داخلی سکیورٹی کو تعلیمی ویزے کے حصول کے لیے جھوٹے بیانات جمع کرانے پرفرد الزام عاید کی گئی ہے۔

ایف بی آئی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی پینتیس صفحات کو محیط درخواست میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے الوزر کے خلاف 2016ء میں تحقیقات شروع کی تھی۔تب انھیں ڈریکسل یونیورسٹی نے اس یمنی کی فیس بُک پر پوسٹ کی گئی متعدد تصاویر اور تحریروں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ان میں اس کو حوثی ملیشیا کے ساتھ عسکری تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

عدالتی دستاویز کے مطابق الوزر نے 2014ء میں تعلیمی ویزے کے حصول اور پھر 2015ء میں عارضی پناہ کے لیے درخواست دیتے وقت یہ بیان حلفی دیا تھا کہ وہ حوثی ملیشیا کی سرگرمیوں میں ملوّث نہیں رہا تھا۔نیزاس نے حوثی ملیشیا سے کوئی عسکری تربیت حاصل کی ہے اور نہ کوئی گولی چلائی ہے۔

لیکن امریکی تحقیقات کاروں کے مطابق الوزر کی فیس بُک پر پوسٹوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔فیس بُک پر پوسٹ کی گئی تین تصاویر میں وہ آتشیں رائفل اے کے 47 سے مسلح نظر آرہا ہے۔ایک تصویر میں وہ بعض مسلح افراد کے ساتھ کھڑا ہے اور اس نے راکٹ گرینیڈ پکڑ رکھا ہے۔

امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے تحقیقاتی ایجنٹ ڈیوڈ بوٹالیکو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے مطابق اس یمنی طالب علم نے آن لائن ایک شخص کو حوثی ملیشیا کے لیے بھرتی کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

الوزر نے ایف بی آئی کے ایجنٹوں کی پوچھ تاچھ کے دوران میں حوثی ملیشیا سے کسی قسم کے مبیّنہ تعلق اور عسکری تربیت حاصل کرنے کی تردید کی تھی۔البتہ اس نے یہ اعتراف کیا تھا کہ ’’وہ سعودی عرب سے نفرت کرتا ہے۔‘‘اس کے بیان حلفی میں آن لائن پوسٹوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان میں اس نے ’’سعودی عرب پرعیسائیوں اور یہود کا آلہ کارہونے کا الزام عاید کیا ہے۔‘‘اس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ’’امریکا تمام جرائم کا ذمے دار ہے۔‘‘

اس کے خلاف جب تحقیقات کا آغاز کیا گیا،اس وقت وہ ریاست فلاڈلفیا میں واقع ڈریکسل یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔اس وقت وہ ماؤنٹ الوسیس کالج کریسن ، پنسلوینیا میں زیر تعلیم ہے۔اس نے سماجی روابط کی ویب سائٹ لنکڈ ان میں اوبر کے ڈرائیور کی حیثیت سے اپنی حالیہ ملازمت کا ذکر کیا تھا اور اپنے کوائف نامے ( سی وی) میں یہ لکھا تھا کہ وہ اکاؤنٹنگ میں انٹرن شپ کی تلاش میں ہے۔اس وقت وہ امریکی حکام کے زیر حراست ہے اور اس کے خلاف پنسلوینیا کے مشرقی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔