.

لندن میں تاریخی شاہ فیصل نمائش کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شاہ فیصل سینٹر برائے ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیزکے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ تُرکی الفیصل نے برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں نیش روم میں شاہ فیصل بن عبد العزیز کے تاریخی دورہ یورپ کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر 'الفیصل' نمائش کا افتتاح کیا ہے۔ شاہ فیصل مرحوم نے یورپی ممالک کے اس پہلے دورے کےدوران پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے حوالے سے طے پانے والے معاہدہ فرسائے پر دستخط کیے تھے۔

'شاہ فیصل نمائش' کی اس افتتاحی تقریب میں شہزادہ ترکی الفیصل، برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہادہ خالد بن بندربن سلطان بن عبد العزیز، متعدد وزراء، سفارتکار، کاروباری شخصیات، میڈیا کے نمائندوں، عوامی شخصیات، دانشور، محققین اور طلباء نے شرکت کی۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل نے دونوں حکومتوں اور دونوں ملکوں کے عوام کے مابین تاریخی ، سیاسی ، سفارتی ، ثقافتی اور معاشی دوستی کی قدروں کے فروغ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے شاہ فیصل نمائش دونوں ملکوں کے گہرے دوستانہ تعلقات کی زندہ مثال قرار دیا۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے اپنے طویل دورہ یورپ اور برطانیہ میں تین ہفتوں کے لیے منعقد کی جانے والی نمائش پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل کے سو سال قبل ہونے والے اس تاریخی دورے نے بڑی کامیابی حاصل کی اور بعد میں ہونے والی پیش رفت میں انہیں ایک 'اسٹیٹ مین' کے طور پر دنیا میں متعارف کرایا۔ یہ ان کے اور یورپی رہ نماؤں کے مابین مستقبل کے باہمی دوروں کی بہترین تیاری کا نقطہ آغاز تھا۔ انہوں نے اپنے پہلے دورہ یورپ سے تعلیم اور صنعت کی اہمیت سے بہت کچھ سیکھا اور تعلیم اور صنعت کو سعودی ویژن کے مطابق پایا۔ اس کےعلاوہ شاہ فیصل کےدورہ یورپ نے انہیں بیسویں صدی میں ایک نمایاں ترین سیاسی شخصیت میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ، کیونکہ شاہ فیصل نے ایک مشکل تاریخی مرحلے میں سعودی عرب کی قیادت کی تھی اور مملکت کے لیے ان کا وژن اور ملک کی ترقی وخوش حالی کے لیے ان کی انتھک محنت آج بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

شہزادہ ترکی الفیصل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نمائش کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ دنیا شاہ فیصل جیسے عظیم سیاستدان کو کھونے کے باوجود ان کی میراث سے مستفید ہو رہی ہے۔ ان کا اشارہ اس نمائش کی طرف تھا جس میں یورپ میں شاہ فیصل مرحوم اور ان کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے اور سعودی عرب کے نامور بادشاہ کی حیثیت سے ان کی شخصیت ، تاریخ اور اس کے کیریئر سے لوگوں اوردنیا کو متعارف کروانا ہے۔ اس نمائش میں یہ دکھانے کی کوشش کی جائے گی کہ شاہ فیصل مرحوم نے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو کس انداز میں فروغ دیا اور ملک کی تعمیرو ترقی اور خوش حال میں کیا کار ہائے نمایاں انجام دیئے تھے۔

برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبد العزیز نے دونوں دوست ملکوں کے مابین قریبی تعلقات کی تاریخی تصویر پیش کرنے کے لیے اس نمائش کی اہمیت اور ایک عظیم بادشاہ شاہ فیصل بن عبد العزیز کی زندگی پر روشنی ڈالی۔

"الفیصل" کو یورپ میں پہلی نمائش سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد مرحوم شاہ فیصل کی اہمیت کو اجُاگرکرنا ہے۔ نمائش کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ 'نجد' ہے جس میں شاہ فیصل کی زندگی اور ان کے پہلے دورہ یورپ کا ذکر ہے۔ دوسرا حصہ "ہند" کے نام سے ہے۔ اس میں ان کے دورہ ہندوستان کی تفصیلات اورعالمی سطح پر تعلقات ہیں۔ تیسرے کو "لندن" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ان کے1919ء میں دورہ یورپ کے پہلے پڑائو یعنی لندن کی نمائندگی کرتا ہے۔چوتھا سیکشن "انگلینڈ ، ویلز اور آئرلینڈ" ہے جس میں برطانیہ اورآئرلینڈ کے دورے کی نمائش کی نمائش کی گئی ہے۔

پانچواں حصہ "میدان جنگ میں" کے عنوان سے تیارکیا گیا ہے۔ اس میں شاہ فیصل کے دورہ یورپ کے دوران یورپ میں جاری جنگ کے مناظر پیش کیے گئے ہیں۔ شاہ فیصل بھی جنگی محاذوں پر گئے اور انہوں نے خود بھی جنگ کے مناظر دیکھے جنہیں اس نمائش کا حصہ بنایا گیا ہے۔ نمائش کا چھٹا حصہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے دورے کے لیے مختص ہے جب کہ ساتویں کو'میراث' کانام دیا گیا جس کا مقصد شاہ فیصل کے کامیاب دورہ یورپ کے نتائج کا ذکر ہے۔