.

جب لوگوں کو صبر کی تلقین کرنے والے مذہبی رہنما خود صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے

پوپ فرانسیس نے ایک خاتون کو تھپڑ رسید کرنے اور بعد ازاں معذرت کی ویڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عیسائی دُنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پاپائے روم اکثر لوگوں کو صبر وتحمل، برداشت بردباری اور عفو درگذر کی تلقین کرتے ہیں مگر حال ہی میں پیش آنے والے ایک معمولی واقعے میں وہ خود بھی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے، مگر بعد میں انھوں نے اپنے اقدام سے رجوع کرتے ہوئے معذرت کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پوپ فرانسس بدھ کے روز ویٹیکن کے سینٹ پیٹرس اسکوائر میں سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ اس دوران ایک خاتون نے رکاوٹ کے لیے کھڑی کی گئی باڑ سے ہاتھ آگے بڑھا کر انہیں اپنی طرف زور سے کھینچنے کی کوشش کی۔ یہ منظر عالمی میڈیا میں دیکھا گیا۔ اس پر پاپائے روم سخت برہم ہوئے اور انہوں نے اس خاتون کا نہ صرف ہاتھ جھٹک دیا بلکہ اس کے ہاتھ پر تھپڑ بھی مارا۔

پوپ کی معذرت

پوپ فرانسیس نے اگلے روز ویٹیکین کی ایک بالکونی پر نمو دار ہونے کے بعد وہاں پر موجود لوگوں سے کہا کہ 'اکثر ہم اپنا صبر کھو دیتے ہیں۔ یہ میرے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ میں کل کی بری مثال کے لیے معذرت خواہ ہوں"۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنہ 2019 کے آخری دن ویٹیکن اسکوائر میں مذہبی سروس میں شرکاء ملاقات کے دوران ایک عورت نے پوپ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو پاپائے روم نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ اس واقعے کا ویڈیو کلپ تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور اگلے روز پوپ کو اس پر معذرت کرنا پڑی۔

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون نے پوپ کا ہاتھ پکڑا تو ان کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا اور وہ اس پر سخت برہم ہوئے۔