سعودی نوجوان نے اپنا گھر میوزیم میں بدل ڈالا ...

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی عرب کے صوبے جازان میں ضمد شہر سے تعلق رکھنے والا نوجوان عبداللہ مجلیہ پرائمری اسکول کے دور میں ڈاک ٹکٹ اور پرانی کرنسیاں جمع کرنے کا دیوانہ وار شوق رکھتا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنے گھر میں ایک میوزیم بنا لیا جو قومی ورثے اور قدیم اشیاء اور نوادرات کی چاہت رکھنے والے افراد کے لیے تسکین کا باعث ہے۔

عبداللہ مجلیہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قدیم اشیاء اور نوادرات سے محبت کی بدولت اس کا بچپن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا۔ وہ اس بات کی آرزو رکھتا تھا کہ اپنے پاس موجود تمام ڈاک ٹکٹوں اور دھات کی کرنسیوں کو اعلانیہ طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرے۔

عبداللہ کو ہر گز یہ توقع نہ تھی کہ وہ اپنے شہر میں قومی ورثے کے میوزیم کا مالک پہلا شخص بن جائے گا۔ عبداللہ نے 10 برس کی شب و روز محنت کے بعد یہ میوزیم تیار کیا ہے۔ اس دوران اُس نے نوادرات کو جمع کیا اور قدیم اشیاء کو تلاش کر کے خریدا۔

عبداللہ کے میوزیم میں آنے والے اپنی بھرپور دل چسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ سیاحت سے متعلق سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی نے بھی اس میوزیم کا دورہ کیا اور اس کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں