عثمانی سلطان کی اولاد نے انمول عربی مخطوطات کو بیچ ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بعض لوگوں میں یہ غلط خیال پھیلا ہوا ہے کہ عربی مخطوطات یا قدیم عربی کتب اتنی قیمتی اور بیش بہا نہیں جتنا کہ حالیہ دور میں عرب اور اسلامی دنیا میں انہیں سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص وہ مخطوطات جو سائنسی مواد مثلا طب کی عربی کتابوں پر مشتمل ہے اور اس نے کئی صدیوں سے علمی میدان میں اپنا لوہا منوا رکھا ہے۔

عربی میں طب کی کتابوں کی اہلیت اس درجے تک پہنچی ہوئی ہے کہ فرانس کا بادشاہ لوئس (یازدہم) جو کہ اپنی صحت کے حوالے سے کافی تشویش رکھتا تھا ، وہ اپنے محل کے کتب خانے میں طبیب رازی کی کتابیں رکھنے کا خواہاں رہا۔ اس لیے کہ وہ عربوں کے طب پر بے پناہ اعتماد رکھتا تھا اور اس کے ذہن میں یہ خیال راسخ تھا کہ عرب اس میدان میں دیگر لوگوں پر برتری رکھتے ہیں۔ یہ بات فلیپ دی تریزی نے اپنی کتاب (یورپ میں عربی زبان) میں لکھی ہے۔

عربی میں تحریر مخطوطات کو مغربی دنیا بالخصوص قرون وسطی کے دور میں بڑی اہمیت حاصل رہی۔ اس وقت عربی مخطوط یا عربی مکتوب کا رکھنا ایسی خصوصیت تھی جس پر فرماں روا بھی فخر کرتے تھے۔ برطانیہ نے 1842 میں خریدے گئے عربی مخطوطات کی ادائیگی سونے کی شکل میں کی تھی۔

واضح رہے کہ طب، ریاضی، فلکیات اور یہاں تک کہ ادب کے میدان میں عربی میں تحریر سیکڑوں کتابیں 18 ویں صدی عیسوی تک استعمال ہوتی رہیں۔ طاعون کے لیے عربوں کے تجویز کردہ علاج کے حوالے سے برطانیہ کے دو طبیب بھائیوں الگزینڈر رسل اور پیٹرک رسل نے اس طریقہ علاج کو اپنانے کی تاکید کی ہے۔ انہوں نے اس طریقے کو لے کر اس میں پیش رفت کی اور اسے آگے تک پہنچایا۔ یہ دونوں بھائی اسلامی تاریخ میں طب کی ترقی سے واقف ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے عرب اور اسلامی دنیا کی طبی کتابوں کو شائع بھی کرایا۔

عثمانی سلطنت کے دور میں جرمن شہنشاہ گلیوم دوم نے ترکی کا دورہ کیا۔ گلیوم کی آرزو پر عثمانی سلطان عبدالحمید دوم نے دمشق میں تاریخی اموی مسجد کے کتب خانے کو کھول دیا۔

مشہور شامی مفکر اور مؤرخ محمد كرد علی نے اپنی کتاب (خطط الشام) میں بتایا ہے کہ مذکورہ کتب خانہ قرآن کریم کے مخطوطات اور دیگر کتابوں کے ایسے بیش بہا مجموعے سے مالا مال تھا جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ کرد علی کے مطابق جب اس کتب خانے کو کھولا گیا تو اس میں قدیم آرامی زبان میں لکھی ہوئی شاعری بھی پائی گئی ! یہ محققین اور لسانیات سے شغف رکھنے والے افراد کی نہایت قیمتی متاع تھی۔ اس کے علاوہ وہاں یونانی زبان میں تحریر مخطوطات بھی ملے۔ مزید برآں قبطی اور آرمینیائی زبان میں تحریر اوراق اور عبرانی زبان کے مخطوطات بھی پائے گئے۔ ان میں تورات کا ایک نسخہ بھی تھا۔

کرد علی نے اس جانب توجہ دلائی کہ عثمانی سلطان عبدالحمید دوم نے یہاں موجود عربی اور اسلامی تاریخ کے قیمتی مخطوطات میں سے کئی مخطوطات جرمن شہنشاہ کو بطور تحفہ پیش کر دیے۔ حیرت کی بات یہ کہ سلطان نے ان میں سے بعض بیش بہا اور بے مثال مخطوطات کو اپنے آستانے میں بعض اہل کاروں میں بانٹ دیا۔

سلطان عبدالحمید دوم کی جانب سے عربی، عبرانی، آرمینیائی، یونانی اور قبطی زبان کے انتہائی قیمتی اور نادر مخطوطات کا بنیادی حصہ اپنے اہل کاروں اور خادموں میں تقسیم کرنا اس علمی اور تاریخی خزانے کے لیے بہت بڑا المیہ تھا۔

فلیپ دی تریزی کی کتاب (یورپ میں عربی زبان) میں لکھا ہے کہ سلطان عبدالحمید دوم قدیم مخطوطات کا دیوانہ تھا۔ وہ اس حوالے سے اپنے ہاتھ آئے قیمتی نوادرات کو اپنے محل کے خزانوں میں اکٹھا کیا کرتا تھا۔ مذکورہ سلطان ان مخطوطات کی بنیاد پر دیگر فرماں رواؤں کے سامنے فخر کا اظہار کیا کرتا تھا۔ تاہم بعد ازاں اس کی آل اولاد نے ان میں سے کئی مخطوطات کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فروخت کر ڈالا۔ کتاب کے مؤلف کے مطابق سلطان کی آل اولاد نے یہ بیش بہا خزانہ اس کے ترکے سے حاصل کیا تھا۔

مذکورہ کتاب کے مطابق سلطان عبدالحمید دوم کی آل اولاد نے نایاب ترین اور انمول عربی اور غیر عربی مخطوطات کو بیچ ڈالا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ "یورپ میں عربی زبان" نامی کتاب کا لبنانی مؤلف عراقی نژاد ہے۔ اس نے عثمانی سلطان کی آل اولاد کے ہاتھوں بیچے گئے مخطوطات میں سے کچھ مخطوطات حاصل کر لیے۔ تاہم ان میں سے بہت سے مخطوطات کے انجام سے کوئی واقف نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں