.

الریاض سے بیروت کی پروازمیں کرونا وائرس کے شُبے پر مسافروں میں لڑائی، مار کٹائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقِ اوسط کی فضائی کمپنی (مڈل ایسٹ ائیرلائنز)کے سعودی دارالحکومت الریاض سے لبنانی دارالحکومت بیروت میں جانے والے مسافر طیارے میں کرونا وائرس کے شبُے پر دھینگا مشتی ہوئی ہے اور مسافروں نے ایک دوسرے پر خوب گھونسے بازی کی ہے۔

اس پرواز میں ہوا یہ تھا کہ ایک مسافر نے لبنان کے ٹیلی ویژن چینل کے ایک ملازم کے چہرے پر کھانس دیا تھا۔اس کے بعد ان میں دھینگا مشتی شروع ہوگئی تھی اوروہ ایک دوسرے پر مکے اور تھپڑ مارنے لگ گئے۔

صورت حال اس وقت زیادہ کشیدہ ہوگئی جب ایک مسافر نے یہ درخواست کی کہ لبنانی ٹیلی ویژن چینل (ایل بی سی آئی) کی ٹیم واقعے کی فلم نہ بنائے۔

اس ٹیلی ویژن چینل نے واقعے کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے اور آن لائن ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے۔اس میں ایک خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’معذرت، آپ فلم نہیں بناسکتے۔ہم مسافر لوگ ہیں اور ہماری اپنی ایک پرائیویسی ہے۔‘‘

اس کے جواب میں فلم بنانے والا شخص بولا:’’میں آپ کی فلم نہیں بنا رہا ہوں،اس لیے آپ بیٹھ جائیے۔‘‘

ایل بی سی آئی کے بیان کے مطابق جب طیارہ بیروت کے ہوائی اڈے پر اترا تو ٹیم کے بعض ارکان نے اپنے اپنے موبائل فونز پر ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کردی تھی۔اس سے وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ انھوں نے سفر کے دوران میں کیا پیشگی حفاظتی تدابیر اختیار کی تھیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ طیارے میں پہلے مسافروں کے درمیان زبانی تکرار ہوئی تھی اور پھر انھوں نے دھینگا مشتی شروع کردی۔اس دوران ہی میں ایک شخص نے دوسرے کے چہرے پر کھانس دیا تھا جس سے معاملہ اور زیادہ سنگین ہوگیا۔ان میں ایک فریق یہ سمجھا تھا کہ کھانسنے والا شخص کرونا وائرس کا شکارہوسکتا ہے اور دوسرے بھی اب اس سے متاثر ہوجائیں گے۔

امریکا کے مرکز برائے انسداد امراض اور کنٹرول کے مطابق یہ نیا کرونا وائرس نظام تنفس کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب ایک متاثرہ شخص کھانستا یا چھینکتا ہے تو اس سے دوسرا شخص بھی متاثر ہوجاتا ہے۔

ایل بی سی آئی کا کہنا ہے کہ ویڈیو بنانے والی اس کی میڈیا ٹیم سعودی عرب میں ایک اسائنمنٹ مکمل کرنے کے بعد بیروت واپس آرہی تھی۔